ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 429 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 429

ایک طرف تو یہ ظالم طبع لوگ مجھ پرافتراکرتے ہیں کہ گویامیں ایسی مستقل نبو ت کا دعویٰ کرتاہوںجو صاحب شریعت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا الگ نبوت ہے مگر دوسری طرف یہ اپنے اعمال کی طرف ذرا بھی توجہ نہیںکرتے کہ جھوٹی نبوت کا دعویٰ تو خودکر رہے ہیں جب کہ خلافِ رسول اور خلافِ قرآن ایک نئی شریعت قائم کرتے ہیں۔اب اگر کسی کے دل میں انصاف اور خدا کا خوف ہے تو کوئی مجھے بتائے کہ کیا ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک تعلیم اور عمل پر کچھ اضافہ یا کم کر تے ہیں؟ جب کہ اسی قرآن شریف کے بموجب ہم تعلیم دیتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو اپنا امام اور حَکَم مانتے ہیں۔کیا ارّہ کا ذکر میں نے بتایا ہے اور پاس انفاس اور نفی واثبات کے ذکر اور کیا کیا، اور کیا کیا میں سکھاتا ہوں پھر جھوٹی اور مستقل نبوت کا دعویٰ تو یہ لوگ خود کرتے ہیں اور الزام مجھے دیتے ہیں۔ختم نبوت کی حقیقت یقیناً یاد رکھو کہ کوئی شخص سچا مسلمان نہیں ہو سکتا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا متبع نہیں بن سکتا جب تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین یقین نہ کر لے۔جب تک ان محدثات سے الگ نہیں ہوتا اور اپنے قول اور فعل سے آپ کو خاتم النبیین نہیں مانتا کچھ نہیں۔سعدی نے کیا اچھا کہا ہے۔؎ بزہد و ورع کوش و صدق و صفا و لیکن میفزائے بر مصطفی ہمارا مدعا جس کے لئے خدا تعالیٰ نے ہمارے دل میں جوش ڈالا ہے یہی ہے کہ صرف صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت قائم کی جائے جو ابدالآباد کے لئے خدا نے قائم کی ہے اور تمام جھوٹی نبوتوں کو پاش پاش کر دیا جائے جوا ن لوگوں نے اپنی بدعتوں کے ذریعہ قائم کی ہیں ان ساری گدیوں کو دیکھ لو اور عملی طور پر مشاہدہ کرو کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت پر ہم ایمان لائے ہیں یا وہ ؟ یہ ظلم اور شرارت کی بات ہے کہ ختم نبوت سے خدا تعالیٰ کا اتنا ہی منشا قرار دیا جائے کہ منہ سے ہی خاتم النبیین مانو اور کرتوتیں وہی کرو جو تم خود پسند کرو اور اپنی ایک الگ شریعت بنا لو۔بغدادی نماز