ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 428 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 428

پاتے۔ان میں نفس مطمئنہ نہیں ہے جو بُلہے شاہ کی کافیوں میں لذّت کے جویاں ہیں۔روح کی لذّت قرآن شریف سے آتی ہے۔۱ اپنی شامت ِاعمال کو نہیں سوچا اُن اعمال خیرکو جو پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے تھے۔ترک کردیا اور ان کے بجائے خودتراشیدہ ورد، وظائف داخل کر لیے اور چند کافیوں کا حفظ کر لینا کافی سمجھا گیا بُلہے شاہ کی کافیوں پر وجد میںآجاتے ہیں۔اور یہی وجہ ہے کہ قرآن شریف کا جہاں وعظ ہو رہا ہو وہاں بہت ہی کم لوگ جمع ہوتے ہیں لیکن جہاںاس قسم کے مجمعے ہوں وہاںایک گروہ کثیر جمع ہو جاتا ہے نیکیو ں کی طرف سے یہ کم رغبتی اور نفسانی او ر شہوانی اُمور کی طرف توجہ صاف ظاہر کرتی ہے کہ لذّتِ روح اور لذّتِ نفس میں ان لوگوں نے کوئی فرق نہیں سمجھاہے۔دیکھاگیا ہے کہ بعض ان رقص و سرود کی مجلسوں میں دانستہ پگڑیاںاُتار لیتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ میاں صاحب کی مجلس میں بیٹھتے ہی وجدہو جاتا ہے اس قسم کی بدعتیں اور اختراعی مسائل پیدا ہوگئے ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ جنہوںنے نمازسے لذّتِ نہیں اُٹھائی اور اس ذوق سے محروم ہیں وہ روح کی تسلی اور اطمینان کی حالت ہی کو نہیں سمجھ سکتے اور نہیں جانتے کہ وہ سرور کیا ہو تا ہے۔مجھے ہمیشہ تعجب ہوتا ہے کہ یہ لو گ جو اس قسم کی بد عتیں مسلمان کہلا کر نکالتے ہیں۔اگر روح کی خوشی اور لذّت کا سامان اسی میں تھا تو چاہیے تھاکہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم جو عارف ترین اور اکمل ترین انسان دنیامیں تھے وہ بھی اس قسم کی کوئی تعلیم دیتے یااپنے اعمال سے ہی کچھ کر دکھاتے۔میں ان مخالفوں سے جو بڑے بڑے مشائخ اور گدی نشین اور صاحبِ سلسلہ ہیں۔پوچھتا ہوںکہ کیاپیغمبرِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے ورد و وظائف اور چلہ کشیاں اُلٹے سیدھے لٹکنا بھول گئے تھے اگر معرفت اور حقیقت شناسی کا یہی ذریعۂ اصل تھے۔مجھے بہت ہی تعجب آتا ہے کہ ایک طرف قرآن شر یف میں یہ پڑھتے ہیں اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ (المآئدۃ:۴) اور دوسری طرف اپنی ایجادوں اور بدعتوں سے اس تکمیل کو توڑ کر ناقص ثابت کرنا چاہتے ہیں۔