ملفوظات (جلد 2) — Page 426
ہیں؟ ہرگزنہیں۔وہ لوگ جنہوں نے آپ کی ذات خاص اور عزیزوں اور صحابہ کو سخت تکلیفیں دی تھیں اور ناقابل عفو ایذائیں پہنچائی تھیں آپ نے سزا دینے کی قوت اور اقتدار کو پا کر فی الفور ان کو بخش دیا حالانکہ اگر ان کو سزا دی جاتی تو یہ بالکل انصاف اور عدل تھا مگر آپ نے اس وقت اپنے عفو اور کرم کا نمونہ دکھایا۔یہ وہ امور تھے کہ علاوہ معجزات کے صحابہؓ پر مؤثر ہوئے تھے اس لیے آپ اِسم بامسمّٰی محمد ہو گئے تھے صلی اللہ علیہ وسلم۔اور زمین پرآپ کی حمد ہو تی تھی اور اسی طرح آسمان پر بھی آپ کی تعریف ہو تی تھی اور آسمان پر بھی آپ محمد تھے یہ نام آپ کا اللہ تعالیٰ نے بطورِنمونہ کے دنیاکو دیا ہے۔جب تک انسان اس قسم کے اخلاق اپنے اندر پید انہیں کرتاکچھ فائدہ نہیں ہوتا۔اللہ تعالیٰ کی محبت کامل طور پر انسان اپنے اندر پیدا نہیں کر سکتا۔جب تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق اور طرزِ عمل کو اپنا رہبر اور ہادی نہ بنا لے چنانچہ خود اللہ تعالیٰ نے اس کی بابت فرمایا ہے قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِيْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ ( اٰل عـمران :۳۲) یعنی محبوبِ اِلٰہی بننے کے لیے ضروری ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کی جاوے۔سچی اتباع آپ کے اخلاق فاضلہ کا رنگ اپنے اندر پیدا کرنا ہوتا ہے مگر افسوس ہے کہ آج کل لوگوں نے اتباع سے مُراد صرف رفع یدین، آمین بالجہراور رفع سبابہ ہی لے لیا ہے۔باقی امور کو جو اخلاق فاضلہ آپ کے تھے اُن کو چھوڑدیا۔یہ منافق کا کام ہے کہ آسان اور چھوٹے اُمور کو بجالاتاہے اور مشکل کو چھوڑتاہے۔سچے مومن اور مخلص مسلمان کی ترقیوںاور ایمانی درجوں کا آخری نقطہ تو یہی ہے کہ وہ سچا متبع ہو اور آپ کے تمام اخلاق کو حاصل کرے جو سچائی کو قبول نہیں کرتا وہ اپنے آپ کو دھوکا دیتاہے۔کروڑوں مسلمان دنیا میںموجود ہیں اور مسجدیںبھی بھری ہوئی نظرآتی ہیں مگر کوئی برکت اور ظہور ان مسجدوں کے بھرے ہوئے ہونے سے نظر نہیںآتا اس لیے کہ یہ سب کچھ جو کیا جاتاہے محض رسوم اور عادات کے طور پرکیا جاتاہے۔وہ سچا اخلاص اور وفاجو ایمان کے حقیقی لوازم ہیں ان کے ساتھ پائے نہیں جاتے۔سب عمل ریاکاری اور نفاق کے پردوں کے اندر مخفی ہو گئے ہیں۔جُوں جُوں انسان ان کے حالات سے واقف ہوتاجاتاہے اندرسے گند اورخبث نکلتاآتاہے۔مسجدسے نکل کر گھر کی تفتیش کرو تویہ ننگ اسلام نظر آئیں گئے۔