ملفوظات (جلد 2) — Page 425
کوئی معجزہ ہمیں دکھائے۔ایک آدمی کا درست کرنا مشکل ہو تاہے مگر یہاں تو ایک قوم تیار کی گئی کہ جنہوںنے اپنے ایمان اور اخلاص کا وہ نمونہ دکھایا کہ بھیڑبکری کی طرح اس سچائی کے لئے ذبح ہوگئے جس کو انہوں نے اختیار کیا تھا۔حقیقت یہ ہے کہ وہ زمینی نہ رہے تھے بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم ہدایت اور مؤثر نصیحت نے ان کو آسمانی بنادیا تھا۔قدسی صفات ان میں پیدا ہوگئی تھیں۔دنیا کی خباثتوں اور ریاکاریوں سے وہ ایسے سبک اور ہلکے پھلکے کر دئیے گئے تھے کہ ان میں پرواز کی قوت پیدا ہو گئی تھی۔یہ وہ نمو نہ ہے جو ہم اسلام کا دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں اسی اصلاح اور ہدایت کا باعث تھا جو اللہ تعالیٰ نے پیشگوئی کے طورپرآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام محمد رکھاجس سے زمین پر بھی آپ کی ستائش ہوئی کیو نکہ آپ نے زمین کو امن صلح کاری اور اخلاق فاضلہ اور نیکو کاری سے بھردیا تھا۔میںنے پہلے بھی کہا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جس قدر اخلاق ثابت ہوئے ہیں وہ کسی اور نبی کے نہیں کیونکہ اخلاق کے اظہار کے لیے جب تک موقع نہ ملے کوئی اخلاق اخلاق ثابت نہیں ہو سکتا مثلاً سخاوت ہے لیکن اگر روپیہ نہ ہوتو اس کا ظہور کیوں کر ہو ایسا ہی کسی کو لڑائی کا موقع نہ ملے تو شجاعت کیوں کرثابت ہو۔ایسا ہی عفو اس صفت کووہ ظاہر کر سکتا ہے جسے اقتدارحاصل ہو۔غرض سب خلق موقع سے وابستہ ہیں۔اب سمجھنا چاہیے کہ یہ کس قدر خدا کے فضل کی بات ہے کہ آپ کو تمام اخلاق کے اظہار کے موقعے ملے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو وہ موقعے نہیںملے مثلاًآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سخاوت کا موقع ملا۔آپ کے پاس ایک موقع پر بہت سی بھیڑبکریاں تھیں۔ایک کافر نے کہا کہ آپ کے پاس اس قدر بھیڑ بکری جمع ہیں کہ قیصر وکسریٰ کے پاس بھی اس قدر نہیں۔آپؐنے سب کی سب اس کو بخش دیں۔وہ اسی وقت ایمان لے آیا کہ نبی کے سوااور کوئی اس قسم کی عظیم الشان سخاوت نہیں کر سکتا۔مکہ میں جن لوگوں نے دکھ دئیے تھے جب آپؐنے مکہ کو فتح کیا تو آپ چاہتے تو سب کو ذبح کر دیتے مگر آپ نے رحم کیا اور لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ(یوسف:۹۳) کہہ دیا۔آپ کا بخشناتھا کہ سب مسلمان ہوگئے۔اب اس قسم کے عظیم الشان اخلاق فاضلہ کیاکسی نبی میں پائے جاتے