ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 33 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 33

کیا۔جو کچھ انہوں نے کیااسی طرح پر ہماری جماعت کو لازم ہے کہ وہی رنگ اپنے اندر پیدا کریں۔بدوں اس کے کہ وہ اس اصلی مطلب کو جس کے لئے میں بھیجا گیا ہوںپا نہیں سکتے۔کیا ہماری جماعت کو زیادہ حاجتیں اور ضرورتیں لگی ہوئی ہیں جو صحابہ ؓ کو نہ تھیں۔کیا تم نہیں دیکھتے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھنے اور آپ کی باتیں سننے کے واسطے کیسے حریص تھے۔اللہ تعالیٰ نے اس جماعت کو جو مسیح موعود کے ساتھ ہے یہ درجہ عطا فرمایا ہے کہ وہ صحابہؓ کی جماعت سے ملنے والی ہے۔وَ اٰخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ (الـجمعۃ:۴) مفسروں نے مان لیا ہے کہ یہ مسیح موعود والی جماعت ہے۔اور یہ گویاصحابہؓ ہی کی جماعت ہو گی اور وہ مسیح موعود کے ساتھ نہیں در حقیقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہی ساتھ ہیںکیونکہ مسیح موعود آپ ہی کے ایک جمال میں آئے گا اور تکمیلِ تبلیغ اشاعت کے کام کے لئے مامور ہو گا۔اس لئے ہمیشہ دل غم میں ڈوبتا رہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری جماعت کو بھی صحابہؓ کے انعامات سے بہرہ ور کرے۔ان میں وہ صدق و وفا وہ اخلاص اور اطاعت پیدا ہو جو صحابہؓ میں تھی۔یہ خدا کے سوا کسی سے ڈرنے والے نہ ہوں۔متقی ہوں کیونکہ خدا کی محبت متقی کے ساتھ ہوتی ہے۔اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِيْنَ (البقرۃ:۱۹۵)۱ متقی کے ساتھ چونکہ اللہ تعالیٰ کی معیّت ہوتی ہے اس لئے دشمن پر بھی متقی کا رعب ہوتا ہے مگر یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ سچا تقویٰ کبھی حاصل نہیں ہو سکتا جب تک انسان صادقوں اور مردانِ خدا کی صحبت اختیار نہیں کرتا اور خدا تعالیٰ کے فرستادوں کی اطاعت میں ایک فنا اپنے اوپر طاری نہیں کر لیتا۔اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ كُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِيْنَ (التوبۃ: ۱۱۹ ) ایمان والو!تقویٰ اختیار کرو اور صادقوں کے ساتھ رہو ان کی معیّت سے قوت پکڑو۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ایمان کی پوری حقیقت متقی ہونے کے بعد کھلتی ہے۔اور تقوَی اللہ کی حقیقت اس وقت تک متحقق نہیں ہوسکتی جب تک ایک فانی مَرد کی پاک صحبت میں رہ کر فائدہ نہ اُٹھایا جائے اور یہ بھی یاد رکھنا ۱ الحکم جلد ۴ نمبر ۴۶ مورخہ ۲۴ ؍ دسمبر ۱۹۰۰ ء صفحہ ۱ تا ۳