ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 371 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 371

لیکن آخر سچائی غالب آجا تی ہے اور باطل پرستی کی قوتیں مَر جاتی ہیں اور حق پرستی کی قوتیں نشوو نما پانے لگتی ہیں۔پس میں اس نور کو لے کر آیا ہوں اور دنیا میں قوت یقین کو پیدا کرنا چاہتا ہوں اور اس قوت کا پیدا ہونا صرف الفاظ اور باتوں سے نہیں ہو سکتا بلکہ یہ ان نشانات سے نشوونما پاتی ہیں جو اللہ تعالیٰ کی مقتدرانہ طاقت سے صادقوں کے ہاتھ پر ظہور پاتے ہیں۔میرا مدعا یہی ہوتا ہے کہ دوسری کلام نہ کروں جب تک ایک امر سننے والے کے ذہن نشین نہ کر لوں اور سننے والا فیصلہ نہ کر لے کہ اس بات کو اس نے سمجھ لیا ہے یا اس پر کوئی اعتراض کرے۔۱ سچی معرفت کیا ہے کیونکہ سوال کرنا بھی ایک قسم کا علم پیدا کرنا ہوتا ہے السُّؤَالُ نِصْفُ الْعِلْمِ مشہو رہے پس میں اس کو بھی غنیمت سمجھتا ہوں کہ کسی کے دل میں امرِ حق کے متعلق سوال کرنے کی تحریک پیدا ہو جاوے۔یقیناً یاد رکھو کہ سچی معرفت ہر ایک طالب حق کو جو مستقل مزاجی سے اس راہ میں قدم رکھتا ہے مل سکتی ہے۔یہ کسی کے لئے خاص نہیں ہے ہاں یہ سچ ہے کہ جو غفلت کرتا ہے اور صدق نیت سے اس کی جستجو نہیں کرتا اس کا کوئی حصہ نہیں ہے ورنہ خدا تعالیٰ تو ہرایک انسان کو اپنی معرفت کے رنگ سے رنگین کرنا چاہتا ہے کیونکہ انسان کو خدا نے اپنی صورت پر پیدا کیا ہے اور اسی لئے فرمایا ہے وَ الَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا ( العنکبوت :۷۰) جن لوگوں نے ایک عورت کے بچے کو یا یوں کہو کہ انسان کو خدا بنایا ہے انہوں نے نہ خدا کو سمجھا ہے اور نہ انسان ہی کی حقیقت پر غور کی ہے۔انسان کیا ہے ؟ وہ گویاکل مخلوقات الٰہیہ کی ایک مجموعی صورت ہے جس قدر مخلوق دنیا میں جیسے بھیڑ بکری وغیرہ موجود ہے یہ سب انسانی قویٰ کی انفرادی صورتیں ہیں۔جیسے ایک مصنّف جب کوئی کتاب لکھنی چاہتا ہے تو پہلے متفرق نوٹ ہوتے ہیں پھر ان کو ترتیب دے کر ایک کتاب کی صورت میں لے آتا ہے اسی طرح پر کل مخلوقات انسانی قویٰ کے خاکے ہیں گویا یہ عملی صورت بتاتی ہے کہ انسان اعلیٰ قویٰ لے کر آیا ہے پس عیسائی مذہب انسانی قویٰ کی توہین کرتا ہے