ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 359 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 359

مضر اور نقصاں رساں چیزوں سے دور بھاگتا ہے اور نفرت کا اظہار کرتا ہے دیکھو! سونے او رچاندی کو اپنے لئے مفید سمجھتا ہے توا س کی طرف کیسی رغبت کرتا ہے اور کن کن محنتوں اور مشکلات سے اسے بہم پہنچاتا ہے اور پھر کن حفاظتوں سے اسے رکھتا ہے لیکن اگر کوئی شخص سونے چاندی کو تو پھینک دے اور اس کے بجائے مٹی کے بڑے بڑے ڈھیلے اٹھا کر اپنے صندوقوں میں بند کر کے ان کی حفاظت کرنے لگے تو کیا ڈاکٹر اس کی دیوانگی کا فتویٰ نہ دیں گے؟ ضرور دیں گے۔اسی طرح پرجب ہمیں یہ محسوس ہوجاوے کہ خدا ہے اور وہ بدی سے نفرت کرتا او رنیکی کو پیار کرتا ہے اورنیکیوں کو عزیز رکھتا ہے تو ہم دیوانہ وارنیکیوں کی طرف دوڑیں گے اور گناہ کی زندگی سے دور بھاگیں گے۔یہی ایک اصول ہے جو نیکی کی قوت کو طاقت بخشتا او ر نیکی کے قویٰ کو تحریک دیتا ہے اور بدی کی قوتوں کو ہلاک کرتااور شیطان کی ذریت کو شکست دیتا ہے۔جب واقعی طور پر اس آفتا ب کی طرح جو اس وقت دنیا پر چمکتا ہے۔خدا پر ہمیں یقین حاصل ہو جاوے او رہم خدا کو گویا دیکھ لیں تو یقیناً ہماری سفلی زندگی پر موت وارد ہو جاتی ہے اور اس کے بجائے ایک آسمانی زندگی پیدا ہو جاتی ہے جیسے انبیاء علیہم السلام اور دوسرے راست بازوں کی زندگیاں تھیں۔میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ خدا کی رحمت فرماں برداروں اور راست بازوں پر ہوتی ہے جو خدا تعالیٰ کے حضور نیکی اور پاکیزگی کا تحفہ لے کر جاتے ہیں اور شرارتوں اور بد کاریوں سے اس لئے دور رہتے ہیں کہ وہ جانتے ہیں کہ یہ خدا تعالیٰ سے بُعد اور حرماں کا موجب ہیں ایسے لوگ ایک پاک چشمہ سے دھوئے جاتے ہیں جس کا دھویا ہوا پھرکبھی میلا اور ناپاک نہیں ہوتا اور انہیں وہ شربت پلایا جاتا ہے جس کے پینے والا کبھی پیاسا نہیں ہوتا انہیں وہ زندگی عطا ہوتی ہے جس پر کبھی موت وارد نہیں ہوتی انہیں وہ جنت دیا جاتا ہے جس سے کبھی نکلنا نہیں ہوتا۔برخلاف اس کے وہ لوگ جو اس چشمہ سے سیراب نہیں ہوتے اور خدا کے ہاتھوں سے جس کا مسح نہیں ہوتا وہ خدا سے دور جاتے ہیں اور شیطان کے قریب ہو جاتے ہیں انہوں نے خدا کی طرف آنا چھوڑ دیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ نہ ان میں تسلی کی کوئی راہ باقی ہے نہ ان کے پاس دلائل ہیں اور نہ تاثیرات۔