ملفوظات (جلد 2) — Page 358
کافی ہے کہ خارجی امور میں ہم اس کی کوئی نظیر نہیں پاتے اور اس طریق سے بچ نہیں سکتے بلکہ دلیر ہوتے ہیں مثلاً یہ کتّا ہے یہ بھیڑیا نہیں ہے۔اصل میں اگر یہ بھیڑیا ہو اور ہم اس کو کتّا سمجھیں تو بھی ممکن ہی نہیں کہ اس سے ڈریں اور وہ خوف کریں جو ایک خونخوار بھیڑیے سے کرتے ہیں۔کیوں؟ اس لئے کہ ہمیں علم نہیں ہے کہ وہ بھیڑیا ہے۔ہمارے علم میں وہ ایک کتّا ہے لیکن اگر یہ علم ہو کہ یہ بھیڑیا ہے تو اس سے دور بھاگیں گے اور اس سے بچنے کے لئے اچھی خاصی تیاری کریں گے لیکن اگر یہ علم اور بھی وسیع ہو جاوے کہ یہ شیر ہے تو بہت بڑا خطرہ پیدا ہو گا اور اس سے بچنے کے لئے اور بھی بڑی تیاری کریں گے غرض جمیع قویٰ پر ہیبت اور تاثیرکے علم سے ایک خاص اثر ہوتا ہے۔پس اب یہ کیسی صاف صداقت ہے جس کو ہر شخص سوچ سکتا ہے کہ پھر گناہوں سے بچنے کے واسطے کیا راہ ہو سکتی ہے؟ میں دعویٰ سے کہتا ہوں اور میں ایسی صداقت پر قائم کیا گیا ہوں اور یہی حق ہے کہ جب تک خدائے قہار کی معرفتِ تام نہ ہو اور اس کی قوتوں اور طاقتوں کی ایک شمشیر برہنہ نظر نہ آجاوے انسان بدی سے بچ نہیں سکتا۔۱ بدی ایک ایسا ملکہ ہے جو انسان کو ہلاکت کی طرف لئے جاتا ہے اور دل بے اختیار ہو ہو کر قابو سے نکل جاتا ہے خواہ کوئی یہ کہے کہ شیطان حملہ کرتا ہے خواہ کسی اور طرز پر اس کو بیان کیا جاوے یہ ماننا پڑے گا کہ آج کل بدی کا زور ہے اور شیطان اپنی حکومت اور سلطنت کو قائم کرنا چاہتا ہے بدکاری اور بے حیائی کے دریا کا بند ٹوٹ پڑا ہے اور وہ اطراف میں طوفانی رنگ میں جوش زن ہے۔پس کس قدر ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ جو ہر مصیبت او رمشکل کے وقت انسان کا دستگیر ہوتا ہے اس وقت اسے ہر بَلا سے نجات دے چنانچہ اس نے اپنے فضل سے اس سلسلہ کو قائم کیا ہے۔دنیا نے اس سیلاب سے بچنے کے واسطے مختلف حیلے نکالے ہیںاور جیسا کہ میں نے ابھی کہا ہے عیسائیوں نے جو کچھ پیش کیا ہے وہ ایک ایسی بات ہے کہ جس کے بیان کرنے سے بھی شرم آتی ہے پھر اس کا علاج وہی ہے جو خدا نے انسان کی فطرت ہی میں رکھا ہوا ہے یعنی یہ کہ وہ مفید اور نفع رساں چیزوں کی طرف رغبت کرتا ہے اور