ملفوظات (جلد 2) — Page 355
جو اس کی مہلک اور مضر تاثیرات پر ہو چکا ہے۔اس قسم کی بے شمار نظیریں ہم دے سکتے ہیں اور یہ ہماری زندگی میں روزمرہ پیش آتی ہیں۔اب یہ بحثیں کہ گناہ سے بچنے کا یہ ذریعہ ہے یا فلاں حیلہ ہے بالکل بے سود اور بے مطلب ہیں کیونکہ جب تک الٰہی تجلیات کے رعب اور گناہ کی زہراور اس کے خطرناک نتائج کا پورا علم نہ ہو ایسا علم جو یقین کامل تک پہنچ گیا ہو گناہ سے نجات نہیں ہو سکتی۔یہ ایک خیالی اور بالکل بے معنی بات ہے کہ کسی کا خون گناہ سے پاک کر سکتا ہے۔خون یا خودکشی کو گناہ سے کیا تعلق ؟ وہ گناہ کے زائل کرنے کا طریق نہیں ہاں اس سے گناہ پیدا ہو سکتا ہے اور تجربہ نے شہادت دی ہے کہ اس مسئلہ کو مان کر کہاں سے کہاں تک نوبت پہنچ گئی ہے۔گناہ سے بچنے کی سچی فلاسفی میں ہمیشہ یہی کہتا ہوں کہ گناہ سے بچنے کی سچی فلاسفی یہی ہے کہ گناہ کی ضرر دینے والی حقیقت کو پہچان لیں اور اس بات پر یقین کر لیں کہ ایک زبردست ہستی ہے جو گناہوں سے نفرت کرتی ہے اور گناہ کرنے والے کو سزا دینے پر قادر ہے۔دیکھو! اگر کوئی شخص کسی حاکم کے سامنے کھڑا ہو اور اس کا کچھ اسباب متفرق طور پر پڑاہوا ہو تو یہ کبھی جرأت نہیں کرے گا کہ اس اسباب کا کوئی حصہ چرا لے خواہ چوری کے کیسے ہی قوی محرک ہوں اور وہ کیسا ہی اس بدعادت کا مبتلا ہو مگر اس وقت اس کی ساری قوتوں اور طاقتوں پر ایک موت وارد ہوجائے گی اور اسے ہرگز جرأت نہ ہو سکے گی اور اس طرح پر وہ اس چوری سے ضرور بچ جائے گا۔اس طرح پر ہر قسم کے خطا کاروں اور شریروں کا حال ہے کہ جب انہيں ایسی قوت کا پورا علم ہو جاتا ہے جو ان کی اس شرارت پر سزا دینے کے لئے قادر ہے تو وہ جذبات ان کے دب جاتے ہیں یہی سچا طریق گناہ سے بچنے کا ہے کہ انسان خدا تعالیٰ پر کامل یقین پیدا کرے اور اس کے سزا و جزا دینے کی قوت پر معرفت حاصل کرے۔یہ نمونہ گناہ سے بچنے کے طریق کے متعلق خدا نے ہماری فطرت میں رکھا ہوا ہے اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ اس اصول کو آپ کے سامنے پیش کر دوں۔