ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 354 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 354

روشنی پاتا ہے جو اس کو بدیوں سے بچا لیتی اور تاریکی سے نجات دیتی ہے۔اس کی بدی کی قوتیں اور نفسانی جذبات پر خداکے مکالمات اور پُر رعب مکاشفات سے ایک موت وارد ہو جاتی ہے اور وہ شیطانی زندگی سے نکل کر ملائکہ کی سی زندگی بسر کرنے لگتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ارادے اور اشارے پر چلنے لگتا ہے جیسے ایک شخص آتش سوزندہ کے نیچے بد کاری نہیں کر سکتا اسی طرح جو شخص خدا کی جلالی تجلیات کے نیچے آتا ہے اس کی شیطنت مر جاتی ہے اور اس کے سانپ کا سر کچلا جاتا ہے پس یہی وہ یقین اور معرفت ہوتی ہے جس کو انبیاء علیہم السلام آکر دنیا کو عطا کرتے ہیں جس کے ذریعہ سے وہ گناہ سے نجات پا کر پاک زندگی حاصل کر سکتے ہیں۔اسی طریق پر خدا نے مجھے مامور کیا ہے اور میرے آنے کی یہی غرض ہے کہ میں دنیا کو دکھا دوں کہ خدا ہے اور وہ جزا و سزا دیتا ہے اور یہ بات کہ محض اس یقین ہی سے انسان پاک زندگی بسر کر سکتا ہے اور گناہ کی موت سے بچ سکتا ہے ایسی صاف ہے جس کے لئے ہم کو منطقی دلائل کی بھی ضرورت نہیں کیونکہ خود انسان کی فطرت اور روز مرہ کا تجربہ اور مشاہدہ اس کے لئے زبردست گواہ ہیں کہ جب تک یہ یقین کامل نہ ہو گا کہ خدا ہے اور وہ گناہ سے نفرت کرتا ہے اور سزا دیتا ہے کوئی اور حیلہ کسی صورت میں کارگر ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ جن اشیاء کی تاثیرات کی عمدگی کا ہم کو علم ہے ہم کیسے دوڑ دوڑ کر ان کی طرف جاتے ہیں اور جن چیزوں کو اپنے وجود کے لئے خطرناک زہریں سمجھتے ہیں ان سے کیسے بھاگتے ہیں۔مثال کے طورپر دیکھوا س جھاڑی میں اگر ہمیں یقین ہو کہ سانپ ہے تو کیا کوئی بھی ہم میں سے ہو گا جو اس میں اپنا ہاتھ ڈالے یا قدم رکھ دے ہرگز نہیں بلکہ اگر کسی بل میں سانپ کے ہونے کا معمولی وہم بھی ہو تو اس طرف سے گزرنے میں ہر وقت مضائقہ ہو گا طبیعت خود بخود اس طرف جانے سے رکے گی۔ایسا ہی زہروں کی بابت جب ہمیں علم ہوتا ہے مثلاً اسٹرکنیا ہے کہ اس کے کھانے سے آدمی مر جاتا ہے تو کیسے اس سے بچتے اور ڈرتے ہیں۔ایک محلہ میں طاعون ہو تو اس سے بھاگتے ہیں اور وہاں قدم رکھنا آتشیں تنور میں گرنا سمجھتے ہیں۔اب وہ بات کیا ہے جس نے دل میںیہ خوف اور ہراس پیدا کیا ہے کہ کسی صورت میں بھی دل اس طرف کا ارادہ نہیں کرتا؟ وہ وہی یقین ہے