ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 316 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 316

ہے اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے خاص تائیدات سماویہ سے میرے دعوے کو سچا کیا۔ہزاروں ارضی اور سماوی نشان میری سچائی کے ظاہر کئے۔اس قدر شواہد اور دلائل کے ہوتے ہوئے میں کیونکر تسلیم کر لوں کہ جو کچھ یہ کہتے ہیں صحیح ہے جبکہ خدا تعالیٰ کی کھلی کھلی وحی مجھے مسیح موعود ٹھہراتی ہے۔پھر میں ان ملانوں کی بات مانوں یا خدا کی وحی پر ایمان لاؤں؟ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی وحی کو میں ہرگز نہیں چھوڑ سکتا خواہ ساری دنیا میری دشمن ہو جاوے اور ایک بھی شخص میرے ساتھ نہ ہو۔میں خدا تعالیٰ کے تازہ بتازہ کلام کو کیونکر جھٹلا سکتا ہوں؟ پھر ایسی حالت میں کہ اس کی روشن تائیدیں میرے ساتھ ہیں۔اگر قرآن شریف اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح کے فیصلہ کو یہ سب دھکے دیتےہیں تو دیں۔خدا تعالیٰ خود ان سے مطالبہ اور محاسبہ کرے گا۔نزولِ ایلیا ایک اور عجیب بات ہے کہ جب ہم ایلیا کا قصہ پیش کرتے ہیں اور یہودیوں کا اعتراض سناتے ہیں جو حضرت مسیح پر انہوں نے کیا تو اور کچھ جواب نہیں آتا تو کہہ دیتے ہیں کہ یہ کتابیں محرّف مبدّل ہیں مگر ہم کہتے ہیں کہ سب کچھ سہی۔قومی تواتر اور تاریخ کو کیا کہو گے؟ وہ بھی تو کوئی چیز ہے اسے کیونکر ردّ کرو گے؟ اگر قومی تاریخ اور تواتر بھی ردّ کرنے کے قابل ہے تو پھر بڑے بڑے عظیم الشان بادشاہوں کے وجود پر کیا دلیل ہوگی؟ یقیناً کوئی نہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ قومی تواتر اور تاریخ کو ہم کبھی چھوڑ نہیں سکتے اور یہ مسئلہ نزول ایلیا کا ایسا ہے کہ یہودی اور عیسائی بالاتفاق اس کو مانتے ہیں۔خود حضرت مسیح بھی اس پیشگوئی کے قائل تھے۔اگر یہ پیشگوئی صحیح نہ تھی تو ان کو اس کی تاویل کرنے کی کیا حاجت تھی؟ وہ سِرے سے اس کا انکار ہی کر دیتے اور کہہ دیتے کہ یہ جو ملاکی نبی کی کتاب میں لکھا ہوا تم پیش کرتے ہو بالکل غلط ہے۔مگر نہیں انہوں نے اس کو صحیح تسلیم کیا اور پھر اس کی تاویل کی۔یہودی تو یہاں تک چلّاتے ہیں کہ ایک یہودی کی کتاب میرے پاس ہے۔وہ لکھتا ہے کہ اگر قیامت کو ہم سے مؤاخذہ ہوگا تو ہم ملاکی نبی کی کتاب کھول کر رکھ دیں گے۔