ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 315 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 315

اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ مغضوب قوم ٹھہر گئی۔اس کا ہم شکل مقدمہ اب بھی پیش ہے۔مجھے مسلمانوںکی حالت پر افسوس آتا ہے کہ ان کے سامنے یہودیوںکی ایک نظیر پہلے سے موجود ہے اور پانچ وقت یہ اپنی نمازوں میں غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ (الفاتحۃ:۷) کی دعا کرتےہیں اور یہ بھی بالاتفاق مانتے ہیں کہ اس سے مراد یہود ہیں پھر میری سمجھ میں نہیںآتا کہ اس راہ کو یہ کیوں اختیار کرتے ہیں۔ایک ہی رنگ کا مقدمہ جب کہ ایک پیغمبر کے حضور فیصلہ ہو چکا ہے۔اب اس فیصلہ کے خلاف مسیح کو خود آسمان سے یہ کیوں اتارتے ہیں؟ آپ ہی مسیح نے ایلیا کے مقدمہ کا فیصلہ کیا اور ثابت کر دیا کہ دوبارہ آمد سے بروزی آمد مراد ہوتی ہے اور ایلیا کے رنگ میں یحییٰ آیا۔مگر اب یہ مسلمان اس نظیر کے ہوتے ہوئے بھی اس وقت تک راضی نہیں ہوتے جب تک خود مسیح کو آسمان سے نہ اتار لیں۔لیکن میں کہتا ہوں کہ تم اور تمہارے سب معاون مل کر دعائیں کرو کہ مسیح آسمان سے اتر آوے پھر دیکھ لو کہ وہ اترتا ہے یا نہیں؟ میں یقیناً کہتا ہوںکہ اگر تم ساری عمر ٹکریں مارتے رہو اور ایسی دعائیں کرتے کرتے تمہارے ناک بھی رگڑے جاویں تب بھی وہ آسمان سے نہیں آئے گا۔کیونکہ آنے والا تو آچکا۔پھر میں کہتا ہوں کہ یہی وقت تو ہے جو اسے آسمان سے اترنا چاہیے اگر اترنا ہے کیونکہ تمہارے خیال میں ایک مفتری اور کاذب مدعی مسیح ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔اگر فی الواقع یہی سچ ہے کہ مسیح نے آسمان سے آنا ہے تو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اب اسے اتارے تاکہ دنیا گمراہ نہ ہو کیونکہ ایک کثیر جماعت تو مجھے مسیح موعود تسلیم کرچکی ہے اگر اس وقت وہ نہ آیا تو پھر کب آئے گا؟ کیا یہ ہو سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ کاذبوں اور مفتریوں کی مدد کرے؟ اگر ایسا کبھی ہوا ہے تو نظیر پیش کرو اور پھر بتاؤ کہ راست بازوں کی سچائی کا کیا معیار ہے؟ مسئلہ وفات مسیح میں کون حق پر ہے اس مقدمہ میں خوب غور کر کے دیکھ لو کہ حق پر کون ہے؟ عقل اور نور فراست ہمارے ساتھ ہے اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہمارے ساتھ ہیں کیونکہ آپ نے معراج کی رات حضرت مسیح کو مُردوں میں دیکھا۔پھر صحابہؓکا اجماع مسیح کی وفات پر ہو چکا ہے۔قرآن شریف میری تائید کرتا