ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 271 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 271

کرنے والی چیزیں ہیں جب آدمی سنّت اور بدعت میں تمیز کرلے اور سنّت پر قدم مارے تو وہ خطرات سے بچ سکتا ہے لیکن جو فرق نہیں کرتا اور سنّت کو بدعت کے ساتھ ملاتا ہے اس کا انجام اچھا نہیں ہوسکتا۔اﷲ تعالیٰ نے جو کچھ قرآن شریف میں بیان فرمایا ہے وہ بالکل واضح اور بیّن ہے اور پھر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عمل سے کر کے دکھادیا ہے آپؐکی زندگی کامل نمونہ ہے لیکن باوجود اس کے ایک حصہ اجتہاد کا بھی ہے جہاں انسان واضح طور پر قرآن شریف یا سنّت رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم میں اپنی کمزوری کی وجہ سے کوئی بات نہ پاسکے تو اس کو اجتہاد سے کام لینا چاہیے مثلاً شادیوں میں جو بھاجی دی جاتی ہے اگر اس کی غرض صرف یہی ہے کہ تا دوسروں کو پھر اپنی شیخی اور بڑائی کا اظہار کیا جاوے تو یہ ریاکاری اور تکبر کے لئے ہوگی اس لئے حرام ہے۔لیکن اگر کوئی شخص محض اسی نیت سے کہ اَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ ( الضُّحٰی : ۱۲ ) کا عملی اظہار کرے اور مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ ( البقرۃ: ۴ ) پر عمل کرنے کے لئے دوسرے لوگوں سے سلوک کرنے کے لئے دے تو یہ حرام نہیں۔پس جب کوئی شخص اس نیت سے تقریب پیدا کرتا ہے اور اس میں معاوضہ ملحوظ نہیں ہوتا بلکہ اﷲ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا غرض ہوتی ہے تو پھر وہ ایک سو نہیں خواہ ایک لاکھ کو کھانا دے منع نہیں۔اصل مدار نیت پر ہے نیت اگر خراب اور فاسد ہو تو وہ ایک جائز اور حلال فعل کو بھی حرام بنا دیتی ہے۔ایک قصہ مشہور ہے کہ ایک بزرگ نے دعوت کی اور اس نے چالیس چراغ روشن کئے بعض آدمیوں نے کہا کہ اس قدر اسراف نہیں چاہیے اس نے کہا کہ جو چراغ میں نے ریاکاری سے کیا ہے اسے بجھا دو کوشش کی گئی ایک بھی نہ بجھا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک ہی فعل ہوتا ہے اور دو آدمی اس کو کرتے ہیں ایک اس فعل کو کرنے میں مرتکب معاصی کا ہوتا ہے اور دوسرا ثواب کا اور یہ فرق نیتوں کے اختلاف سے پیدا ہو جاتا ہے۔لکھا ہے کہ بدر کی لڑائی میں ایک شخص مسلمانوں کی طرف سے نکلا جو اکڑ اکڑ کر چلتا تھا اور صاف ظاہر ہے کہ اس سے اﷲ تعالیٰ نے منع کیا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب دیکھا تو فرمایا کہ یہ وضع خداوند تعالیٰ کی نگاہ میں معیوب ہے مگراس وقت محبوب ہے کیونکہ اس وقت اسلام کی شان اور شوکت کا اظہار اور فریق مخالف پر ایک رعب پیدا ہو پس ایسی بہت سی مثالیں اور