ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 270 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 270

کوئی خادمانہ کام کیا اور اس طرح پر سمجھا دیا کہ آپ پیغمبرؐ ہیں تب معلوم ہوا۔۱ بعض وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ دوڑے بھی ہیں ایک مرتبہ آپ آگے نکل گئے اور دوسری مرتبہ خود نرم ہوگئے تاکہ عائشہ رضی اللہ عنہا آگے نکل جائیں اور وہ آگے نکل گئیں اسی طرح پر یہ بھی ثابت ہے کہ ایک بار کچھ حبشی آئے جو تماشہ کرتے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو ان کا تماشہ دکھایا اور پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ جب آئے تو وہ حبشی ان کو دیکھ کر بھاگ گئے۔غرض جب انسان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو غور سے مطالعہ کرتا ہے تو اسے بہت کچھ پتہ ملتا ہے لیکن بعض احمق کورباطن ایسے بھی ہیں جو آپ کی زندگی پر تدبّر تو کرتے نہیں اور اعتراض کرنے کے لئے زبان کھولتے ہیں یہ حال عیسائیوں اور آریوں کا ہے۔سنّت اور بدعت میں فرق غرض اس وقت لوگوں نے سنّت اور بدعت میں سخت غلطی کھائی ہوئی ہے اور ان کو ایک خطرناک دھوکہ لگا ہوا ہے وہ سنّت اور بدعت میں کوئی تمیز نہیں کرسکتے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کو چھوڑ کر خود اپنی مرضی کے موافق بہت سی راہیں خود ایجاد کر لی ہیں اور ان کو اپنی زندگی کے لئے کافی راہنما سمجھتے ہیں حالانکہ وہ ان کو گمراہ (۱ ایڈیٹر۔حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام کی سادگی بعینہٖ اس قسم کی ہے۔آپ سیر کو نکلتے ہیں تو کوئی تمیز نہیں ہوتی کہ کوئی آگے نہ بڑھے بلکہ بسا اوقات جلیل القدر اصحاب کو خیال پیدا ہوتا ہے کہ خاک اڑتی ہے اور حضرت اقدس پیچھے ہیں مگر حضرت حجۃ اللہ نے کبھی اس قسم کا خیال بھی نہیں فرمایا۔اکثر ایسا ہوتا ہے کہ پیچھے سے لوگ چلے آتے ہیں اور اعلیٰ حضرت کو ٹھوکر لگ گئی ہے یا جوتی نکل گئی ہے یا چھڑی گر گئی ہے مگر کبھی کسی نے نہیں دیکھا یا سنا ہوگا کہ آپ نے کوئی ملال ظاہر کیا ہو یا کسی خاص وضع کو پسند کیا ہو۔مسجد میں بہت مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ آپ صحابہ کے زمرہ میں بیٹھے ہیں اور کوئی اجنبی آیا ہے تو اس نے بڑھ کر مولانا مولوی عبد الکریم صاحب یا حضرت حکیم الامت سے اوّل مصافحہ کیا اور حضرت مسیح آپ کو سمجھا تو ان بزرگوں نے زبان سے بتایا کہ حضرت صاحب یہ ہیں۔غرض شانِ محمدیؐکا سارا نمونہ آپ میں نظر آتا ہے جس کو شک ہو وہ یہاں آکر اور رہ کر دیکھ لے۔)