ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 21 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 21

ہے۔اس لحاظ سے احمد میں رحیمیت کا ظہور ہے۔پس اللہ، محمد(رحـمٰن)احمد(رحیم) ہے۔گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی ان دو عظیم الشان صفات رحمانیت اوررحیمیت کے مظہر تھے۔۲۔دنیا ایک ریل گاڑی دنیا ایک ریل گاڑی ہے اور ہم سب کو عمر کے ٹکٹ دئیے گئے ہیں۔جہاں جہاں کسی کا سٹیشن آتا جاتا ہے اس کو اُتار دیا جاتا ہے۔یعنی وہ مَر جاتاہے پھر انسان کس زندگی پر خیالی پلاؤ پکاتا اور لمبی امیدیں باندھتا ہے۔۳۔معراج کا سِرّ معراج انقطاعِ تام تھا اور سِرّ اس میںیہ تھا کہ تارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نقطۂ نفسی کو ظاہر کیا جا وے۔آسمان پر ہر ایک روح کے لیے ایک نقطہ ہوتا ہے۔اس سے آگے وہ نہیں جاتی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نقطہءِ نفسی عرش تھا اور رفیقِ اعلیٰ کے معنے بھی خدا ہی کے ہیں۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر اور کوئی معززومکرم نہیں ہے۔۴۔نماز تعویذ ہے نماز انسان کا تعویذ ہے۔پانچ وقت دعا کا موقع ملتا ہے۔کوئی دعا تو سنی جائے گی۔اس لیے نماز کو بہت سنوار کر پڑھنا چاہیے اور مجھے یہی بہت عزیز ہے۔۵۔فاتحہ کی سات آیات کی حکمت سورۃ فاتحہ کی سات آیتیں اسی واسطے رکھی ہیں کہ دوزخ کے سات دروازے ہیں۔پس ہر ایک آیت گویا ایک دروازہ سے بچاتی ہے۔۶۔اصل جنّت اعلیٰ درجہ کی خوشی خدا میں ملتی ہے۔جس سے پرے کوئی خوشی نہیں ہے۔جنت پوشیدہ کو کہتے ہیں اور جنت کو جنت اس لیے کہتے ہیں کہ وہ نعمتوں سے ڈھکی ہوئی ہے۔اصل جنت خدا ہے۔جس کی طرف تردّد منسوب ہی نہیں ہوتا۔اس لیے بہشت کے اعظم ترین انعامات میں رِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ اَكْبَرُ (التوبۃ:۷۲) ہی رکھا ہے۔انسان انسان کی حیثیت سے کسی نہ کسی دکھ اور تردّد میں ہوتا ہےمگر جس قدر قربِ الٰہی حاصل کرتا جاتا ہے اور تَـخَلَّقُوْا بِاَخْلَاقِ اللّٰہ