ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 20 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 20

عمال کا نتیجہ ہے تو پھر یہ بھی ساتھ ہی ماننا پڑے گا کہ معاذ اللہ خدا بالکل معطل پڑا ہوا ہے کیونکہ خالق کے متعلق یہ مان لیا گیا ہے کہ وہ کچھ بھی پیدا نہیں کر سکتا اور ایک ذرّہ کا بھی وہ خالق نہیں اور اُدھر یہ مانا گیا ہے کہ دنیا میں جو کچھ ملتا ہے وہ اپنے ہی عملوں سے ملتا ہے۔مثلاً اگر کوئی شخص ایسے بُرے عمل نہ کرے کہ وہ گائے یا بھینس کی جون میں جاوے یا بھیڑ، بکری بنے تو پھر دودھ ہی نہ ملے اور اسی طرح پر کچھ بھی نہیں مل سکتا۔پھر ایسا خدا جو نہ کچھ پیدا کرتا ہے اور نہ کسی کو کچھ دیتا ہے۔وہ ایک معطل خدا نہ ہوا تو اور کیا ہوا؟پھر اس تناسخ کے مسئلہ سے اخلاقی قوتوں پر یہ بڑی زَد پڑتی ہے کہ انسان میں جوغیرت کی قوت رکھی گئی ہے اس کا ستیا ناس ہوتا ہے کیونکہ جب کوئی ایسی فہرست وید نے نہیں دی کہ فلاں شخص فلاں جون میں چلا گیا ہے تو یہ کیوں ممکن نہیں کہ ایک آدمی کسی وقت اور کسی جون میں اپنی ماں بہن سے بھی شادی کر کے بچے پیدا کرے یا باپ گھوڑا بن جاوے اور بیٹا اس پر سوار ہو کر چابکوں سے اس کی خبر لے۔غرض کہ یہ مسئلہ بہت ہی بُرے اور ناپاک نتیجوں کے پیدا کرنے والا ہے۔تناسخ ہی کیا کم تھا جو آریوں نے نیوگ بھی ویدوں میں سے نکال لیا۔۱ ۳؍ نومبر ۱۹۰۰ء نکات عشرہ ۱۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم مظہر رحمانیت ورحیمیت رحمانیت کا مظہر تام محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔کیونکہ محمدؐ کے معنے ہیں بہت تعریف کیا گیا۔اور رحمان کے معنے ہیں بلا مُزد، بن مانگے بلا تفریق مومن وکافر دینے والا اور یہ صاف بات ہے کہ جو بن مانگے دے گا اس کی تعریف ضرور کی جاوے گی۔پس محمدؐمیں رحمانیت کی تجلی تھی اور اسم احمد میں رحیمیت کا ظہور تھا۔کیونکہ رحیم کے معنے ہیں محنتوں اور کوششوں کو ضائع نہ کرنے والا اور احمد کے معنے ہیں تعریف کرنے والا اور یہ بھی عام بات ہے کہ وہ شخص جو کسی کا عمدہ کام کرتا ہے وہ اس سے خوش ہو جاتا ہے اور اس کی محنت پر ایک بدلہ دیتاہے اور اس کی تعریف کرتا ۱ الحکم جلد ۴ نمبر ۴۲ مورخہ ۲۴ ؍ نومبر ۱۹۰۰ ء صفحہ ۴ ، ۵