ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 253 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 253

نہیں ہوتے تو پھر جیسے یہودیوں نے حضرت مسیحؐ کی اس تاویل کو تسلیم نہیں کیا یہ بھی انکا ر کریںکہ وہ فیصلہ صحیح نہیں تھا کیونکہ یہ میں پہلے بیان کرچکا ہوں کہ ایلیا والے قصہ کی مسلمان تکذیب تو کر نہیں سکتے کیونکہ قرآن شریف نے کہیں اس کی تکذیب نہیں کی اور تکذیب کے اوّل حق دار تو حضرت مسیحؑ اور ان کے متبعین ہوسکتے ہیں۔جبکہ یہ بات ہے کہ استعارات کوئی چیز نہیں اور ہر پیشگوئی لازماً اپنے ظاہری الفاظ ہی پر پوری ہوتی ہے تو پھر ان کو گویا مانناپڑے گا یہودیوں کی طرح کہ مسیح ابھی نہیں آئے اورجب مسیح کے آنے کا بھی انکار ہی ہواتو پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی انکارکرنا پڑا اوراس طرح پر اسلام ہاتھ سے جاتا ہے۔اسی لیے میں بار بار اس امر پر زور دیتا ہوں کہ میری تکذیب سے اسلام کی تکذیب لازم آتی ہے۔اس صورت میںعقل مند سوچ سکتا ہے کہ ایلیا کے دوبارہ آنے کے قصہ کے رنگ میں مسیح کی آمد ثانی ہے اوران کا فیصلہ گویا چیف کورٹ کا فیصلہ ہے جو اس کے خلاف کہتا ہے وہ نامراد رہتا ہے اگر حضرت عیسیٰ ؑ نے خودآنا تھا توصاف لکھ دیتے کہ میں خود ہی آؤں گا۔یہودی یہی تو اعتراض کرتے ہیںکہ اگر ایلیا کا مثیل آنا تھا توکیوں خدا نے یہ نہ کہا کہ ایلیا کا مثیل آئے گا۔غرض جس قدر یہ مقدمہ ایلیا کا ہے اس پر اگر ایک دانش مند صفائی اور تقویٰ سے غور کرے تو صاف سمجھ میں آجاتا ہے کہ کسی کے دوبا رہ آنے سے کیا مراد ہوتی ہے اور وہ کس رنگ میں آیا کرتا ہے۔دو شخص بحث کرتے ہیں ایک نظیر پیش کرتا ہے اور دوسرا کوئی نظیر پیش نہیں کرتا تو بتاؤ کس کا حق ہے کہ اس کی بات مان لی جاوے ؟یہی کہنا پڑے گا کہ ماننے کے قابل اسی کی بات ہے جو دلائل کے علاوہ اپنی بات کے ثبوت میں نظیر بھی پیش کرتا ہے اب ہم تو ایلیا کا فیصلہ شدہ مقدمہ جو خود مسیح نے اپنے ہاتھ سے کیا ہے بطور نظیر پیش کرتے ہیں یہ اگر اپنے دعویٰ میں سچّے ہیں تو دو چار ایسے شخصوں کے نام لے دیں جن کی آسمان سے اترنے کی نظیریں مو جود ہوں سچ کے حق میں کوئی نہ کوئی نظیر ضرور ہوتی ہے اس مقدمہ میںتنقیح طلب یہی امر ہے کہ جب کسی کے دوبارہ آنے کا وعدہ ہو تو کیا اس سے اس شخص کا پھر آنا مراد ہوتا ہے یا اس کا مفہوم کچھ اور ہوتا ہے اور اس کی آمد ثانی سے یہ مراد ہوتی ہے کہ کوئی اس کا مثیل آئے گا۔اگر اس تنقیح طلب امر