ملفوظات (جلد 2) — Page 249
کہ مخالف کہتے ہیں کہ کسی شخص کی ضرورت نہیں۔ہم مجادلہ کرنے والے سے بات کرنا نہیں چاہتے اور اس سے بحث کرنا بجز تضیع اوقات اور کچھ نہیں ہے۔ہاں جو طالب حق ہو وہ ہمارے پاس آئے اور یہاں رہے اور پھر ہر طرح اس کی تسلی اور اطمینان کو طیار ہیں مگر افسوس تویہ ہے کہ اس قسم کے لوگ پائے نہیں جاتے بلکہ مخالف تو دو چار دس منٹ میں فیصلہ کرنا چاہتے ہیں۔یہ گویا مذہبی قمار بازی ہے اس طرح پر حق کھل نہیں سکتا۔آپ خود سوچیں کہ عیسائیت اسلام کو مغلوب کرنے کے واسطے کس قدر زور لگا رہی ہے۔کلکتہ کے بشپ نے لندن جا کر جو تقریر کی ہے اس سے صاف پایا جاتا ہے کہ کوئی آدمی گورنمنٹ انگلشیہ کا سچا خیر خواہ اور وفادار نہیں ہوسکتا جب تک وہ عیسائی نہ ہو۔ایسی تقریروں اور بحثوں سے کیا یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ عیسائی بنانے کے لئے کس قدر کوشش یہ لوگ کرنی چاہتے ہیں اور ان کی نیت میں کیا ہے؟ وہ صاف چاہتے ہیں کہ کوئی مسلمان نہ رہ جاوے۔عیسائی مشنریوں نے اس امر کو بھی تسلیم کیا ہے کہ جس قدر اسلام ان کی راہ میں روک ہے اور کوئی مذہب ان کی راہ میں روک نہیں ہے۔مگر یادرکھو کہ اﷲ تعالیٰ اپنے دین کے لئے غیور ہے اس نے سچ فرمایا ہے اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ (الـحجر : ۱۰) اس نے اس وعدہ کے موافق اپنے ذکر کی محافظت فرمائی اور مجھے مبعوث کیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وعدہ کے موافق کہ ہر صدی کے سر پر مجدّد آنا ہے اس نے مجھے صدی چہار دہم کا مجدّد کیا۔جس کا نام کا سرالصلیب بھی رکھا ہے اگر ہم اس دعویٰ میں غلطی پر ہیں تو پھر سارا کاروبار نبوت کا ہی باطل ہوگا اور سب وعدے جھوٹے ٹھہریں گے اور پھر سب سے بڑھ کر عجیب بات یہ ہوگی کہ خدا تعالیٰ بھی جھوٹوں کی حمایت کرنے والا ثابت ہوگا (معاذاﷲ) کیونکہ ہم اس سے تائیدیں پاتے ہیں اور اس کی نصر تیں ہمارے ساتھ ہیں۔نزولِ مسیح اور دجال سے متعلق عام خیالات اور اصل حقیقت اب ایک شخص کو بطور وسوسہ کے یہ اعتراض گذرتا ہے کہ مسیح آسمان سے اترے گا اور اس کے ہاتھ میں ایک حربہ ہوگا اور وہ دجال کو جس کے ہاتھ میں خدائی کی ساری قوتیں ہوں گی اور روٹیوں کا پہاڑ اس کے ساتھ ہوگا وہ قتل کرے گا