ملفوظات (جلد 2) — Page 248
ساتھ عیسوی دین کا وعظ ضرور کیا جاتا ہے اور بسا اوقات ایسا ہوا ہے کہ بعض عورتیں یا بچے شفا خانہ میں علاج کے لئے داخل ہو گئے ہیں اور پھر ان کا پتہ اس وقت تک نہیں ملا جب تک وہ عیسائی ظاہر نہیں کئے گئے۔سادھوئوں کے رنگ میں وعظ کرتے ہیں۔غرض کوئی طریقہ وسوسہ اندازی کا ایسا نہیں جو اس قوم نے اختیار نہ کیا ہو۔اب اس فتنہ پر ان کی نگاہ ہوتی تو ان کو ماننا پڑتا کہ اس فتنہ کی اصلاح اور مدافعت کے لئے کوئی شخص خدا کی طرف سے ضرور آنا چاہیے۔قرآن کریم کی طرف سے بے توجہی اور لا پروائی پر نظر کرتے تو کہتے کہ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ (الـحجر : ۱۰) کے وعدہ کے موافق ضرور کوئی محافظِ قرآن اس وقت آنا چاہیے اور پھر سلسلہ خلافت موسوی اور سلسلہ خلافت محمدی کی مشابہت پر نظر ہوتی تو ماننا پڑتا کہ اس وقت چودھویں صدی میں ایک خاتم الخلفاء ضرور آنا چاہیے۔اس طرح پر ایک نہیں بہت سی باتیں تھیں جو ان لوگوں کی ہدایت اور رہبری کا موجب ہو سکتی تھیں مگر نفس پرستی کی وجہ سے تعصّب اور ضدّ سے انہوں نے ان پر غور نہیں کیا اور مخالفت اختیار کی۔ان امور کا جو میں پیش کرتا ہوں وہی انکار کر سکتا ہے جو گھر سے باہر نہیں نکلتا اور حجروں ہی میں پرورش پاتا ہے جو شخص کہتا ہے فتنہ نہیں ہوا تو میں اس کو متعصّب ہی نہیں سمجھتا بلکہ وہ بے ادب اور گستاخ ہے جس کے دل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عزّت و تکریم کا خیال نہیں ہے اور اس سے بے خبر محض ہے۔مگر عقل مند اور دین سے واقف سمجھتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی ا س فتنہ کو خفیف نہیں سمجھا اور حقیقت میں خفیف نہیں۔میں بار بار اس امر پر اسی لئے زور دیتا ہوں کہ لوگوں کو اس امر پر اطلاع ملے۔ان کا ایک ایک پرچہ اگر دیکھا جاوے تو وہ ایک ایک لاکھ نکلتا ہے وہ وسائل اشاعت اور تبلیغ کے جو اَب پیدا ہو گئے ہیں پہلے کہاں تھے؟اس سے پہلے ردّ اسلام میں ایک رسالہ تو دکھائو مگر اس صدی میں اگر ان رسالوں اور اخبارات اور کتابوں کو جو اسلام کے خلاف لکھے گئے ہیں ایک جگہ جمع کرو تو ان کا اونچا ڈھیر کئی میل تک چلا جاوے بلکہ میں بلا مبالغہ کہتا ہوں کہ یہ اونچا ڈھیر دنیا کے بلند ترین پہاڑوں کی اونچائی سے بھی بڑھ جاوے اور اگر ان کو برابر سطح پر رکھا جاوے تو کئی میل لمبی لائن ہو۔اس وقت اسلام شہیدانِ کر بلا کی طرح دشمنوں کے نرغہ میں گھرا ہوا ہے اور اس پر بھی افسوس ہے