ملفوظات (جلد 2) — Page 241
آنے والے موعود کی ایک علامت احادیث میں یہ بھی آیا ہے کہ آنے والے موعود کے وقت دنیاظلم اور زُور سے بھری ہوئی ہوگئی۔ظلم اورزُور سے یہ مراد نہیں کہ اس وقت حکومت ظالم ہوگی جو لوگ یہ سمجھتے ہیںوہ سخت غلطی کرتے ہیں آنے والے مسیح کے وقت میں ضروری ہے کہ سلطنت عادل ہو اور امن ہو اور ہم اللہ تعالیٰ کاشکر کرتے ہیں کہ ہم کوایسی عادل اورامن دوست گورنمنٹ اس نے عطا کی ہے جس کی نظیر آج دنیاکی کسی سلطنت میں نہیں ملتی ہے جیسے مسیح کے زمانہ میں رومی گورنمنٹ جو اپنے عدل و انصاف کے لیے مشہور تھی مگر ہماری گورنمنٹ رومی گورنمنٹ سے بدرجہا بہتر اور بڑھ چڑھ کر عادل ہے یہاں تک کہ اس مقدمہ میں جو پادری ہنری مارٹن کلارک کی طرف سے مجھ پر ہو اتھا کپتان ڈگلس نے جو اُن دنوں گورداس پور کا (ڈپٹی) کمشنر تھا۔باوجود یکہ بعض کوتاہ اندیشوں کا یہ خیال تھا کہ ایک معزز پادری کی طرف سے مقدمہ ہے لیکن اس انصاف پسند حاکم نے اصلیت کو نکال لیا اور معلوم کر لیا کہ وہ مقدمہ بعض ادنیٰ درجہ کے آدمیوں کی چالاکی کانتیجہ تھا۔کپتان ڈگلس جو آج کل دہلی میں ڈپٹی کمشنر ہیں ہمیشہ تک اس عدیم المثل انصاف کے باعث مشہور رہیںگے اور یہ تو گورنمنٹ کے ایک عہدہ دار کی مثال ہے اور ایسی ہزاروں لاکھوں مثالیں ہیں۔غرض احادیث میں آیا ہے کہ جب وہ موعود آئے گا تو دنیا ظلم اور زُور سے بھری ہوئی ہو گی اس کا مطلب یہی ہے کہ اس وقت دنیا میں شرک اور زُور کا بہت زور ہو گا چنانچہ اس وقت دیکھ لو کیسی بت پرستی، صلیب پرستی، مُردہ پرستی اور قسم قسم کی پرستش ہو رہی ہے اور حقیقی اور سچّے خدا کو بالکل چھوڑ دیا گیا ہے۔۱ ایک مصلح کی ضرورت اب ان تمام امور کو یکجا کر کے دانش مند غور کرے کہ جو کچھ ہم کہتے ہیں کیا وہ اس قابل ہے کہ سر سری نگا ہ سے اسے ردّ کر دیا جاوے؟ یا یہ کہ اس پر پورے غور اور فکر سے کام لیا جاوے۔جو کچھ ہمارا دعویٰ ہے کیایہ صدی کے سر پر ہے یا نہیں؟ اگر ہم نہ آتے تب بھی ہر ایک عقل مند اور خدا ترس کو لازم تھا کہ وہ کسی آنے والے کی تلاش