ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 189 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 189

اگر زیادہ روکا جاوے گا تو دیوانی سے فیصلہ کرا لیں گے چونکہ انہوں نے دست برداری کی، ہم نے مکان بنا لیا۔یہ جگہ جہاں دیوار بنائی گئی ہے تخمیناً ۳۶ سال یا دو تین سال کم و بیش سے شارع عام ہے۔گول کمرہ میں سے ایک دروازہ ہے جہاں سے میں بڑی مسجد کو جا سکتا ہوں۔چھوٹی مسجد تو ہمارے گھر کا ایک حصہ ہے۔زنان خانہ میں جو دروازہ ہے اس میں سے گزر کر اگر بڑی مسجد کو جانا چاہوںتو پہلے کوٹھی پر چڑھنا پڑتا ہے پھر دوسری طرف سے اتر کر بڑی مسجد کو جاسکتا ہوں اگر میں اوپر نہ چڑھوں تو کوئی راستہ نہیں ہے۔دیوار حائل ہے۔اس دیوار کے بننے سے مجھے بڑی ذاتی تکلیف ہوئی ہے۔ذاتی تکلیف سے یہ مراد ہے کہ مالی تکلیف ہوئی ہے کہ کنواں بنانا پڑا اور چھاپہ خانہ کا بہت بڑا حرج ہوا۔مسافر اور میرے ملاقاتی جو بڑے معزز اور شریف آدمی ہوتے ہیں وہ ملاقات کے لئے ترستے رہتے ہیں۔میں اوپر ہوتا ہوں اور وہ نیچے۔میں الفاظ میں نہیں بیان کر سکتا کہ مجھے اس سے کس قدر درد پہنچتا ہے۔آٹھ نو ماہ ہوئے ایک شریف عرب مجھے ملنے آیا اس کو چوٹیں لگیں کیونکہ راستہ چکر دار ہے۔وہ بہت خراب ہے اور پتھریلا ہے۔برسات میں خصوصاً چلنے کے قابل نہیں ہوتا۔دیوار متنازعہ کے نیچے کوئی فرش نہیں لگا دیکھا۔بازار میں پکا فرش ہے۔ہماری گلیوں میں پکا فرش نہیں ہے۔مجھے خبر نہیں کہ اور گلیوں میں ہے یا نہیں۔۱ مدعی نے سوال پر بیان کیا۔چکر دار راستہ پتھریلا ہے جہاں انسان مشکل سے گزرتا ہے۔اگر مدعا علیہ کے مکان کے چاہ سے ہمارے ہاں چھوٹی مسجد میں پانی سقہ لاوے تو دیوار متنازعہ کے راستہ آوے گا۔ہمارا اور مدعا علیہ کا سقّہ جدّی سقّہ ہے۔اپنے تعلق سے اس چاہ سے پانی لاتاہے۔ہمارے مہمانوں کے یکے اس میدان میں کھڑے ہوتے ہیں۔سال میں تیس ہزار کے قریب مہمان آتے جاتے ہیں۔ان کے یکے اسی جگہ کھڑے ہوتے ہیں اور گرمی کے دنوںمیں اس میدان میں سوتے ہیں۔اگر چاہ جدید سے سقہ چھوٹی مسجد کو آوے گا تب بھی وہ اس دیوار کے راستہ سے آوے گا۔اس دیوار الحکم جلد ۵ نمبر ۲۸ مورخہ ۳۱؍ جولائی ۱۹۰۱ء صفحہ ۷ ، ۸