ملفوظات (جلد 2) — Page 170
وہ حقیقت سے نا آشنا ہیں۔دعا کا وقت نماز ہے۔نماز میں بہت دعا ئیں مانگو۔۱۸ ؍ مئی ۱۹۰۱ ء ظالم حاکم فرمایا۔اگر حاکم ظالم ہو تو اس کو بُرا نہ کہتے پھرو بلکہ اپنی حالت میں اصلاح کرو۔خدا اس کو بدل دے گا یا اسی کو نیک کر دے گا۔جو تکلیف آتی ہے وہ اپنی ہی بدعملیوں کے سبب آتی ہے ورنہ مومن کے ساتھ خدا کا ستارہ ہوتا ہے۔مومن کے لئے خدا تعالیٰ آپ سامان مہیا کر دیتا ہے۔میری نصیحت یہی ہے کہ ہر طرح سے تم نیکی کا نمونہ بنو۔خدا کے حقوق بھی تلف نہ کرو اور بندوں کے حقوق بھی تلف نہ کرو۔۲۰؍مئی ۱۹۰۱ ء ضرورت سے زیادہ مساجد کی تعمیر کہیں سے خط آیا کہ ہم ایک مسجد بنانا چاہتے ہیں اور تبرکاً آپ سے بھی چندہ چاہتے ہیں۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ ہم تو دے سکتے ہیں اور یہ کچھ بڑی بات نہیں ہے مگر جبکہ خود ہمارے ہاں بڑے بڑے اہم اور ضروری سلسلے خرچ کے موجود ہیں جن کے مقابل میں اس قسم کے خرچوںمیں شامل ہونا اسراف معلوم ہوتا ہے تو ہم کس طرح سے شامل ہوں۔یہاںجو مسجد خدا بنا رہا ہے اور وہی مسجد اقصیٰ ہے وہ سب سے مقدم ہے۔اب لوگوں کو چاہیے کہ اس کے واسطے روپیہ بھیج کر ثواب میں شامل ہوں۔ہمارا دوست وہ ہے جو ہماری بات کو مانے نہ وہ کہ جو اپنی بات کو مقدم رکھے۔حضرت امام ابو حنیفہؓ کے پاس ایک شخص آیا کہ ہم ایک مسجد بنانے لگے ہیں آپ بھی اس میں کچھ چندہ دیں۔انہوں نے عذر کیا کہ میں اس میں کچھ دے نہیں سکتا حالانکہ وہ چاہتے تو بہت کچھ دیتے۔ا س شخص نے کہا کہ ہم آپ سے