ملفوظات (جلد 2) — Page 158
اسلام تلوار کے زور سے نہیں پھیلا نا فہم مخالف یہ کہتے ہیں کہ جہاد کے ذریعہ اسلام پھیلایا جاتا ہے مگر میں کہتا ہوں کہ یہ صحیح نہیں ہے۔اسلام کی کامل تعلیم خود اس کی اشاعت کا موجب ہے۔نفسِ اسلام کے لئے ہرگز کسی تلوار یا بندوق کی ضرورت نہیں ہے۔اسلام کی گزشتہ لڑائیاں وہ دفاعی لڑائیاں تھیں۔انہوں نے غلطی اور سخت غلطی کھائی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ وہ جبراً مسلمان بنانے کے واسطے تھیں۔غرض میرا ایمان ہے کہ اسلام تلوار کے ذریعہ نہیں پھیلایا جاتا بلکہ اس کی تعلیم جو اپنے ساتھ اعجازی نشان رکھتی ہے خود دلوں کو اپنی طرف کھینچ رہی ہے۔چنانچہ جن لوگوں نے میری کتابوں کو پڑھا ہے اور میری کارروائی کو دیکھا ہے وہ سمجھ سکتے ہیں کہ یہ ساری کارروائی مسیح کے رنگ میں ہے۔مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اخلاقی قوتوں کی تربیت کروں۔چونکہ یہ سارا سلسلہ اور ساری کارروائی مسیحی رنگ اپنے اندر رکھتی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے میرا نام مسیح موعود رکھا۔مسیح موعود آگیا اور وہ مَیں ہوں اب جبکہ میں نے اس حد تک بات کو پہنچایا ہے تو میں جانتا ہوں کہ مسیحی بھی میرے مخالف ہوں گے لیکن میں کسی کی مخالفت سے کب ڈر سکتا ہوں جبکہ خدا نے مجھے مامور کر کے بھیجا ہے۔اگر یہ دعویٰ میری اپنی تراشی ہوئی بات ہوتی تو مجھے ایک ادنیٰ سی مخالفت بھی تھکا کر بٹھا دیتی مگر یہ میرے اپنے اختیار کی بات نہیں ہے۔ہر سلیم الفطرت کو جس طرح وہ چاہے سمجھانے کے لئے میں طیار ہوں اور اس کی تسلی کے لئے ہر جائز اور مسنون راہ مَیں اختیار کر سکتا ہوں۔میں سچ کہتا ہوں کہ یہی وہ زمانہ ہے جس کے لئے مسلمان اپنے اعتقاد کے موافق اور عیسائی اپنے خیال پر منتظر تھے۔یہی وہ وقت تھا جس کا وعدہ تھا۔اب آنے والا آگیا خواہ کوئی قبول کرے یا نہ کرے۔خدا تعالیٰ اپنے بھیجے ہوئے لوگوں کی تائید میں زبر دست نشان ظاہر کیا کرتا ہے اور دلوں کو منوا دیتا ہے۔جو کچھ مسیح موعود کے لئے مقدر تھا وہ ہو گیا۔اب کوئی مانے نہ مانے مسیح موعود آگیا اور وہ مَیں ہوں۔