ملفوظات (جلد 2) — Page 157
جو ایک بار پہلے آچکا تھا پھر آگیا ہے حالانکہ خدا تعالیٰ کے قانون مقررہ کے یہ خلاف ہے۔اس کا قانون یہی ہے کہ جو لوگ ایک بار اس دنیا سے اٹھائے جاتے ہیں پھر وہ نہیں آتے۔ہاں خدا تعالیٰ چاہے تو ان کی خُو اور طبیعت پر کسی دوسرے بندے کو بھیج دیتا ہے اور شدّتِ مناسبت کے لحاظ سے وہ دونوں دوجدا جدا انسان نہیںہوتے بلکہ ایک ہی ہوتے ہیں۔مسیح کا ذاتی فیصلہ غرض حضرت مسیح نے اپنے آنے سے پیشتر ایلیا کے آنے کے وعدہ اور عقدہ کو اس طرح پر حل کر کے ایک فیصلہ ہمارے ہاتھ میں دے دیا ہے۔یہ وہ فیصلہ ہے جو خود مسیح نے اپنی عدالت میں اپنی سچائی کے ثبوت میں اپنے سے پہلے ایک نبی کے دوبارہ آنے کے متعلق کیا ہے کہ کسی کے دوبارہ آنے سے مراد اس کی خُو اور طبیعت پر آنے والے سے ہوتی ہے۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے یہ ہرگز نہیں کہا کہ ایلیا تو یوں آیا یعنی یوحنا ہی اس کی خُو اور طبیعت پر آگیا لیکن میں خود ہی آؤں گا۔اگر اس قسم کی صراحت انہوں نے کہیں انجیل میں کی ہے تو وہ بتانی چاہیے مگر ایک بھی ایسا مقام نہیں ہے جہاں انہوں نے اپنی آمد اور ایلیا کی آمد میں تفریق کی ہو بلکہ ایلیا کے قصہ کا فیصلہ کر کے اپنی آمد ثانی کے مسئلہ کو بھی حل کر دیا۔پس ایسی صورت میں ہر ایک طالب حق کے لئے ضرور ہے کہ وہ اس فیصلہ کے بعد چوں چرا نہ کرے اور کوئی ایسی بحث نہ کرے جس میں وقت ضائع ہو کیونکہ یہ تو بالکل ایک سیدھی سی بات ہے مثلاً ایک آدمی کہے کہ ہر انسان کی دو ہی آنکھیں ہوتی ہیں اور وہ دس بیس انسان کیا ہرسامنے آنے والے انسان کو دکھا دے مگر ایک اور ہو جو کہے کہ نہیں، دو نہیں پچاس آنکھیں ہوتی ہیں لیکن وہ کسی کی پچاس آنکھیں دکھاوے نہیں تو کون صرف اس کے کہنے ہی پر مان لے گا۔جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ مسیح کی آمد ثانی ایلیا کے رنگ میں نہیں ہے ان کی مثال اُس آدمی کی سی ہی ہے جو پچاس آنکھیں بتاتا ہے۔سچی بات یہی ہے کہ مسیح کی آمد ثانی ایلیا ہی کے رنگ میں ہے۔میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ میں تناسخ کے مسئلہ کو نہیں مانتا۔میرا آنا ایلیاکے رنگ پر ہے۔خدا نے مجھے مسیح کے رنگ پر بھیجا ہے اور اصلاح اخلاق کے لئے بھیجا ہے۔