ملفوظات (جلد 2) — Page 136
کامل مومن اللہ تعالیٰ گواہ ہے اور اس سے بڑھ کر ہم کس کو شہادت میں پیش کر سکتے ہیں کہ جیسا کہ میں نے ابھی کہا ہے سولہ یا سترہ برس کی عمر سے عیسائیوں کی کتابیں پڑھتا رہا ہوں مگر ایک طرفۃ العین کے لئے بھی ان اعتراضوں نے میرے دل کو مذ بذب یا متاثر نہیں کیا اور یہ محض خدا تعالیٰ کا فضل ہے۔میں جوں جوں ان کے اعتراضوں کو پڑھتا جاتا تھا اسی قدر ان اعتراضوں کی ذلت میرے دل میں سماتی جاتی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور محبت سے دل عطر کے شیشہ کی طرح نظر آتا۔میں نے یہ بھی غور کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جس پاک فعل پر یا قرآن شریف کی جس آیت پر مخالفوں نے اعتراض کیا ہے وہاں ہی حقائق اور حِکم کا ایک خزانہ نظر آیا ہے جو کہ ان بد باطن اور خبیث طینت مخالفوں کو عیب نظر آیا ہے۔سنو!انسان کامل مومن اس وقت تک نہیں ہوتا جب تک کفار کی باتوں سے متاثر نہ ہونے والی فطرت حاصل نہ کر لے اور یہ فطرت نہیں ملتی جب تک اس شخص کی صحبت میں نہ رہے جو گمشدہ متاع کو واپس دلانے کے واسطے آیا ہے۔پس جب تک کہ وہ اس متاع کو نہ لے لے اور اس قابل نہ ہو جائے کہ مخالف باتوں کا اس پر کچھ بھی اثر نہ ہو اس وقت تک اس پر حرام ہے کہ اس صحبت سے الگ ہو کیونکہ وہ اس بچہ کی مانند ہے جو ابھی ماں کی گود میں ہے اور صرف دودھ ہی پر اس کی پرورش کا انحصار ہے۔پس اگر وہ بچہ ماں سے الگ ہو جاوے تو فی الفور اس کی ہلاکت کا اندیشہ ہے۔اسی طرح اگر وہ صحبت سے علیحدہ ہوتا ہے تو خطر ناک حالت میں جا پڑتا ہے۔پس بجائے اس کے کہ دوسروں کو درست کرنے کے لئے کوشش کر سکتا ہو خود الٹا متاثر ہو جاتا ہے اور اَوروں کے لئے ٹھوکر کا باعث بنتا ہے۔اس لئے ہم کو دن رات جلن اور افسوس یہی ہے کہ لوگ بار بار یہاں آئیں اور دیر تک صحبت میں رہیں۔انسان کامل ہونے کی حالت میں اگر ملاقات کم کر دے اور تجربہ سے دیکھ لے کہ قوی ہو گیا ہوں تو اس وقت اسے جائز ہو سکتا ہے کہ ملاقات کم کر دے کیونکہ بعید ہو کر بھی قریب ہی ہوتا ہے لیکن جب تک کمزوری ہے وہ خطر ناک حالت میں ہے۔دیکھو اس قدر لوگ جو عیسائی ہو گئے جن کی تعداد ۲۰ لاکھ تک پہنچی ہے۔میں نے ایک بشپ کے لیکچر کا خلاصہ پڑھا تھا۔اس نے بیان کیاہے کہ ہم ۲۰لاکھ عیسائی