ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 135 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 135

کے دور کرنے کے واسطے جو روح کو تباہ کرتی ہیں کسی تریاقی صحبت کی ضرورت ہے جہاں رہ کر انسان مہلکات کا علم بھی حاصل کرتا ہے اور نجات دینے والی چیزوں کی معرفت بھی کرلیتا ہے۔اسی واسطے ایک عرصہ سے میرے دل میں یہ بات ہے اور مَیں سوچتا رہتا ہوں کہ اپنی جماعت کا امتحان سوالات کے ذریعہ سے لُوں چنانچہ مَیں نے اس تجویز کا کئی بار ذکر بھی کیا ہے۔اگرچہ ابھی مجھے موقع نہیں ملا لیکن یہ بات میرے دل میں ہمیشہ رہتی ہے کہ ایک بار سوالات کے ذریعہ آزماکر دیکھوں کہ جو کچھ ہم پیش کرتے ہیں ا س کے متعلق ان کو کہاں تک علم ہے اور انہوں نے ہمارے مقاصد اور اغراض کو کہاں تک سمجھا ہے اور جو اعتراض اندرونی یا بیرونی طور پر کیے جاتے ہیں اُن کی مدافعت کہاں تک کرسکتے ہیں۔اگر چالیس آدمی بھی ایسے نکل آویں جن کے نفس منور ہوجائیں اور پوری بصیرت اور معرفت کی روشنی انہیں مل جائے تو وہ بہت کچھ فائدہ پہنچا سکیں۔یہ سلسلہ منہاج نبوت پر قائم ہے میں سولہ سترہ برس کی عمر سے عیسائیوں کی کتابیں پڑھتا ہوں اور ان کے اعتراضوں پر غور کرتا رہا ہوں۔میں نے اپنی جگہ ان اعتراضوں کو جمع کیا ہے جو عیسائی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کرتے ہیں ان کی تعداد تین ہزار کے قریب پہنچی ہوئی ہے لیکن جب میں ان لوگوں کے اعتراضوں کو پڑھتا ہوں جو میری ذات کی نسبت کرتے ہیں تو میں ہمیشہ یہی کہا کرتا ہوں کہ ابھی ان اعتراضوں میں پورا کمال نہیں ہوا کیونکہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک ذات پر جب اس قدر اعتراض کئے گئے ہیں تو ہم مخالفوں کا منہ کیوں کر بند کر سکتے ہیں۔پھر میں یہ بھی کہتا ہوں کہ میری نسبت جس قدر اعتراض کیے جاتے ہیں ان میں سے ایک بھی ایسا اعتراض نہیں ہے جو اولو العزم انبیاء علیہم السلام پر نہ کیا گیا ہو اگر کسی کو اس میں شک ہو تو وہ میری ذات پر کوئی اعتراض کر کے دکھائے جو کسی پہلے نبی پر نہ کیا گیا ہو مگر ہم دعویٰ سے کہتے ہیں کہ جس قسم کا اعتراض مجھ پر کیا جائے گا یا جو اَب تک ہوئے ہیں اسی قسم کے اعتراض ان پر ہوئے ہیں۔بات یہ ہے کہ یہ سلسلہ منہاج نبوت پر قائم ہوا ہے اس لئے اس سلسلہ کی سچائی کے لئے وہی معیار ہے جو انبیاء علیہم السلام کی صداقت کے لئے ہوتا ہے۔