ملفوظات (جلد 2) — Page 122
یہ خط حضرت اقدس ؑ کے حضور پڑھ کر سنادیا گیا۔آنحضرت علیہ السلام نے ایڈیٹر الحکم کو مندرجہ ذیل جواب لکھ دینے کا حکم دیا۔صبراوراستقلال کے ساتھ جب تک کوئی ہماری صحبت میں نہ رہے وہ فائدہ نہیں اُٹھاسکتا۔ان کو چاہیے کہ وہ یہاں آجائیں اور ایک عرصہ تک ہمارے پاس رہیں۔۱ ۷؍ مارچ ۱۹۰۱ء الہامات اور حدیث النفس میں امتیاز الہامات کے متعلق ذکر تھا کہ اس میں بہت مشکلات پڑتے ہیں۔فرمایا۔بعض لوگ حدیث النفس اور شیطان کے القا کو الہام الٰہی سے تمیز نہیں کرسکتے اور دھوکا کھا جاتے ہیں۔خدا کی طرف سے جو بات آتی ہے وہ پُر شوکت اور لذیذ ہوتی ہے۔دل پر ایک ٹھوکر مارنے والی ہوتی ہے۔وہ خدا کی انگلیوں سے نکلی ہوئی ہوتی ہے۔اس کا ہم وزن کوئی نہیں۔وہ فولاد کی طرح دل میں گرنے والی ہوتی ہے۔جیسا قرآن شریف میں آیا ہے اِنَّا سَنُلْقِيْ عَلَيْكَ قَوْلًا ثَقِيْلًا( المزّمل : ۶) ثقیل کے یہی معنے ہیں مگر شیطان اور نفس کا القا ایسا نہیں ہوتا۔حدیث النفس اور شیطان گویا ایک ہی ہیں۔انسان کے ساتھ دو قوتیں ہمیشہ لگی ہوئی ہیں۔ایک فرشتے اور دوسرے شیطان۔گویا اس کی ٹانگوں میں دو۲ رسّے پڑے ہوئے ہیں۔فرشتہ نیکی میں ترغیب اور مدددیتا ہے جیسا کہ قرآن شریف میں آیا ہے اَيَّدَهُمْ بِرُوْحٍ مِّنْهُ ( المجادلۃ : ۲۳ ) اور شیطان بدی کی طرف ترغیب دیتا ہے جیسا کہ قرآن شریف میں آیا ہے يُوَسْوِسُ ( النّاس : ۶ )ان دونوں کا انکار نہیںہوسکتا۔ظلمت اور نور ہر دو ساتھ لگے ہوئے ہیں۔عدمِ علم سے عدمِ شے ثابت نہیں ہوسکتا۔ماسوائے اس عالم کے اور ہزاروں عجائبات ہیں۔گو لَا یُدْرَکْ ہوں۔قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ ( النّاس : ۲)میں شیطان کے ان وساوس کا ذکر ہے جو کہ وہ لوگوں کے درمیان ان دنوں ڈال رہا ہے۔بڑا وسوسہ یہ ہے کہ ربوبیت کے متعلق غلطیاں ڈالی ۱ الحکم جلد ۵ نمبر ۱۴ مورخہ ۱۷ ؍ اپریل ۱۹۰۱ء صفحہ ۱۱ ، ۱۲