ملفوظات (جلد 2) — Page 121
حق جُو کا حضرت اقدسؑ سے خلوص وعقیدت کا اظہار حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس تقریر کو یہاں ختم کیا۔حق جُو صاحب کچھ عرصہ تک قادیان میں رہے۔انہوں نے حضرت اقدس کی صحبت میں رہ کر جو فائدہ اُٹھایا۔اُس کے اظہار کے لئے ہم اُن کے ایک خط کو جو اُنہوں نے لاہور سے ہمارے نام بھیجا ہے یہاں درج کرتے ہیں۔مکرمی جناب شیخ صاحب۔تسلیم (۱)میری بے اَدبی معاف فرماویں۔مَیں قادیان سے اچانک کچھ وجوہات رکھنے پر چلا آیا۔میں اب یہاں سوچوں گا کہ مجھے اپنی زندگی پَرلوک کے لئے کس پہلو میں گزارنی ہے۔میں آپ کی جماعت کی جدائی سے تکلیف محسوس کررہا ہوں۔(۲) میں حضرت جی کے اخلاص کا حددرجہ مشکور ہوں اور جو کچھ رُوحانی دان مجھے نصیب ہوا اور جو کچھ مجھ پر ظاہر ہوا اُس کے لئے نہایت ہی مشکور ہورہا ہوں۔مگر افسوس ہے دنیا میں سخت اندھکار ہے اور میں ایک ایک قدم پر گررہا ہوں۔سوائے صحبت کے اس حالت کو قائم رکھنامیرے لئے بہت کٹھن (دشوار )ہے۔(۳) اس بات پر میر ایقین ہے کہ بے شک حضرت صاحب روحانی بھلائی کے طالبوں کے لئے اعلیٰ نمونہ ہیں اور ان کی صحبت میں مستقل طور پر رہنا بڑا ضروری ہے۔دنیا کی حالت ایسی ہے کہ موتیوں کو کیچڑ میں پھینکتے ہیں اورکوڑیاں جمع کرتے ہیں اور جو شخص موتی سنبھالنے لگے اس کے سر پر مٹی پھینک دیتے ہیں۔ہائے افسوس کہ وہ کوڑیوں کو بھی موتی سمجھے بیٹھے ہیں۔میں سخت گھبرایا ہوا ہوں۔ہاں میں کیا کروں اور کدھر جاؤں۔میری حالت بہت بُری ہے۔تمام جماعت کی خدمت میں آداب۔خصوصاً حضرت صاحب کی خدمت میں مؤدبانہ آداب عرض فرماویں اور میرے لیے حضرت صاحب اور تمام جماعت سے دعا کراویں۔آپ کا نیاز مند وزیرسنگھ