ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 112 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 112

رکھی جاتی ہے۔وہ صبر اور حُسنِ ظن ہے۔جب تک ایک حیران کردینے والا صبر نہ ہو کچھ بھی نہیں ہوسکتا۔جب انسان محض حق جوئی کے لئے تھکانہ دینے والے صبر کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی راہ میں سعی اور مجاہدہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے اپنے وعدہ کے موافق اس پرہدایت کی راہ کھول دیتا ہے وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا ( العنکبوت: ۷۰) یعنی جو لوگ ہم میں ہوکر سعی اور مجاہدہ کرتے ہیں آخر ہم ان کو اپنی راہوں کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔اُن پر دروازے کھولے جاتے ہیں۔یہ سچی بات ہےکہ جو ڈھونڈتے ہیں وہ پاتے ہیں۔کسی نے خوب کہا۔ع اے خواجہ درد نیست وگرنہ طبیب ہست خدا جوئی کے آداب ہم تو یہ کہتے ہیں کہ جو شخص ہمارے پاس آتا ہے اور کھڑا کھڑا بات کرکے چل دیتا ہے وہ گویا خدا سے ہنسی کرتا ہے۔یہ خدا جوئی کا طریق نہیں ہے اور نہ اللہ تعالیٰ نے اس قسم کا قانون مقرر کیا ہے۔پس اوّل شرط خدا جوئی کے لئے سچی طلب ہے۔دوسری صبر کے ساتھ اس طلب میں لگے رہنا۔یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جس قدر عمر زیادہ ہوتی جاتی ہے اسی قدر تجربہ بڑھتا جاتا ہے۔پھر معرفت کے لئے زیادہ دیر تک صحبت میں رہنا ضروری ہوا یا نہیں؟ مَیں نے بہت سے آدمی دیکھے ہیں جو اپنی اوائل عمر میں دنیا کو ترک کرتے اور چیختے اورچلّاتے ہیں۔آخر اُن کا انجام یہ دیکھا گیا کہ وہ دنیا میں منہمک پائے گئے اور دنیا کے کیڑے بن گئے۔دیکھو! بعض درختوں کو سنَیرو پھل لگا کرتے ہیں جیسے شہتوت کے درخت کو عارضی طور پر ایک پھل لگتا ہے آخر وہ سارے کا سار اگر جاتاہے۔اس کے بعد اصل پھل آتا ہے۔اسی طرح پر خدا جوئی بھی عارضی طور پر اندر پیدا ہوتی ہے۔اگر صبر اور حسنِ ظن کے ساتھ صدق قدم نہ دکھایا جاوے تو وہ عارضی جوش ایک وقت میں آکر یہی نہیں کہ فروہوجاتا ہے بلکہ ہمیشہ کے لئے دل سے محو ہوجاتا ہے اور دنیا کا کیڑا بنادیتا ہے لیکن اگر صدق و ثبات سے کام لیا جاوے تو اس عارضی جوش اور حق جوئی کی پیاس کے بعد واقعی اور حقیقی طور پر ایک طلب اور خواہش پید اہوتی ہے جو دن بدن ترقی کرتی جاتی ہے یہاں تک کہ اس کی راہ میں اگر مشکلات اور مصائب کا پہاڑ بھی آجائے تو وہ