ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 111 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 111

ہیں جو ایک عاجز انسان کو خدا سمجھ لیتے ہیں۔بھلا وہ خدا میں کیا لذّت پا سکتے ہیں۔جیسے عیسائی ہیں کہ حضرت مسیحؑ کو خدا بنا رہے ہیں اور اس پر خدا محبت ہے، خدا محبت ہے، پکارتے پھرتے ہیں۔ان کی محبت حقیقی محبت نہیں ہو سکتی۔ایک ادعا ئی اور خیالی محبت ہے جب کہ خدا تعالیٰ کی بابت ان کو سچی معرفت ہی نصیب نہیں ہوئی۔محبت الٰہی کے ذرائع عقیدہ کی تصحیح۔نیک صحبت۔معرفت۔صبروحُسنِ ظن۔دعا پس سب سے پہلے پھر یہ ضروری ہے کہ اوّل تصحیح عقیدہ کرے۔ہندو کچھ اور پیش کرتے ہیں۔عیسائی کچھ اور ہی دکھاتے ہیں۔چینی کسی اور خدا کو پیش کرتے ہیں۔مسلمانوں کا وہی خدا ہے جس کو انہوں نے قرآن کے ذریعہ دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔جب تک اس کو شناخت نہ کیا جائے خدا کے ساتھ کوئی تعلق اور محبت پیدا نہیں ہوسکتی۔نرے دعوے سے تو کچھ نہیں بنتا۔۱ پس جب عقیدہ کی تصحیح ہوجاوے تو دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ نیک صحبت میں رہ کر اس معرفت کو ترقی دی جاوے اور دعا کے ذریعہ بصیرت مانگی جاوے۔جس جس قدر معرفت اور بصیرت بڑھتی جاوے گی اسی قدر محبت میں ترقی ہوتی جائے گی۔یادرکھنا چاہیے کہ محبت بدوں معرفت کے ترقی پذیر نہیں ہوسکتی۔دیکھو! انسان ٹین یالوہے کے ساتھ اس قدر محبت نہیں کرتا جس قدرتانبے کے ساتھ کرتا ہے۔پھر تانبے کو اس قدر عزیز نہیں رکھتا جتنا چاندی کو رکھتا ہے اور سونے کو اس سے بھی زیادہ محبوب رکھتا ہے اور ہیرے اور دیگر جواہرات کو اور بھی عزیز رکھتا ہے۔اس کی وجہ کیا ہے؟ یہی کہ اس کو ایک معرفت ان دھاتوں کی بابت ملتی ہے جو اس کی محبت کو بڑھاتی ہے۔پس اصل بات یہی ہے کہ محبت میں ترقی اور قدروقیمت میں زیادتی کی وجہ معرفت ہی ہے۔اس سے پیشتر کہ انسان سرور اور لذّت کا خواہشمند ہو اُس کو ضروری ہے کہ وہ معرفت حاصل کرے لیکن سب سے ضروری امر جس پر ان سب باتوں کی بنیاد ۱ الحکم جلد ۵ نمبر ۱۱ مورخہ ۲۴ ؍ مارچ ۱۹۰۱ء صفحہ ۹ تا ۱۱