ملفوظات (جلد 2) — Page 103
تھا۔وہ بھی آج میں نے اس میں داخل کردیا ہے۔مگر ان سب کو ہم جانے دیتے ہیں۔اپنی جماعت کے ساتھ اگرچہ میری ہمدردی خاص ہے مگر مَیں سب کے ساتھ ہمدردی کرتا ہوں اور مخالفین کے ساتھ بھی میری ہمدردی ہے۔جیسا ایک حکیم تریاق کا پیالہ مریض کو دیتا ہے کہ وہ شفا پاوے مگر مریض غصہ میں آکر اس پیالے کو توڑدیتاہے توحکیم اس پر افسوس کرتا ہے اوررحم کرتا ہے۔ہمارے قلم سے مخالف کے حق میں جو کچھ الفاظ سخت نکلتے ہیں وہ محض نیک نیتی سے نکلتے ہیں۔جیسے ماں بچہ کو کبھی سخت الفاظ بولتی ہے مگر اس کا دل درد سے بھرا ہوا ہوتا ہے۔صادق اور کاذب کامعاملہ خدا کے نزدیک ایک نہیں ہوتا۔خدا جس کو محبت کے ساتھ دیکھتاہے اس کے ساتھ اوردُوسروں کے ساتھ اس کا ایک سلوک نہیں ہوتا۔کیا سب کے ساتھ اس کامعاملہ ایک ہی رنگ کا ہے۔مخالفین ہم سے صلح کرلیں۔مِلنا جُلنا شروع کردیں۔بے شک اپنے اعتقاد پر رہیں۔ملاقات سے اصلی حالات معلوم ہوجاتے ہیں۔امرتسر کے بعض مخالف سمجھتے ہیں کہ ہم خدا کے منکر ہیں اور شراب پیتے ہیں۔ایسی بدظنی کا سبب یہی ہے کہ وہ ہم سے بالکل الگ ہوگئے ہیں۔اس قسم کا انقطاع تو کمزور لوگ کرتے ہیں کہ بالکل الگ ہو جائیں۔اَلْحَقُّ یَعْلُوْ وَلَایُعْلٰی۔تم ہم سے ڈرتے کیوں ہو۔اگر ہم حقیر ہیں تو تم ہم پرغالب آجاؤ گے۔اگر صُلح بھی نہیں کرتے ، تو پھر مقابلہ میں آنا چاہیے۔مقابلہ کے وقت خدا صادق کی مدد کرتا ہےكَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِيْ( المجادلۃ:۲۲)۱ ۲۶؍فروری ۱۹۰۱ء امام مہدی کی شان اُمّتِ محمدیہ میں پیغمبروں کاظِلّی سِلسِلہ فرمایا۔اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ (الفاتحۃ:۶) کی دعا سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک ظِلّی ۱ الحکم جلد ۵ نمبر ۹ مورخہ ۱۰ ؍ مارچ ۱۹۰۱ ء صفحہ ۸ تا ۱۰