ملفوظات (جلد 2) — Page 102
دوسرے نکتہ کا نقیض نہیں ہوتا مگر زُودرنج، کینہ پروراورغصہ والی طبائع کے ساتھ قرآن شریف کی مناسبت نہیں ہے اور نہ ایسوں پر قرآن شریف کھلتا ہے۔میرا ارادہ ہے کہ اس قسم کی تفسیر بنادوں۔نرا فہم اور اعتقاد نجات کے واسطے کافی نہیں جب تک کہ وہ عملی طور پر ظہور میں نہ آوے۔عمل کے سوا کوئی قول جان نہیں رکھتا۔قرآن شریف پر ایسا ایمان ہونا چاہیے کہ یہ درحقیقت معجزہ ہے اور خد اکے ساتھ ایسا تعلق ہو کہ گویا اس کو دیکھ رہا ہے۔جب تک لوگوں میں یہ بات پیدا نہ ہوجائے ، گویا جماعت نہیں بنی۔اگر کسی سے کوئی ایسی غلطی ہوکہ وہ صرف ایک غلط خیال کی وجہ سے ایک امر میں ہماری مخالفت کرتا ہے تو ہم ایسے نہیں ہیں کہ ہم اس پر ناراض ہوجائیں۔ہم جانتے ہیں کہ کمزوروں پر رحم کرنا چاہیے۔ایک بچہ اگر بستر پر پاخانہ پِھر دے او رماں غصہ میں آکر اس کو پھینک دے تو وہ خون کرتی ہے۔ماں اگر بچہ کے ساتھ ناراض ہونے لگے اور ہر روز اس سے روٹھنے لگے تو کام کب بنے۔وہ جانتی ہے کہ یہ ہنوز نادان ہے۔رفتہ رفتہ خدا اس کو عقل دے گا اور کوئی وقت آتا ہے کہ یہ سمجھ لے گا کہ ایساکرنا نامناسب ہے۔سو ہم ناراض کیوں ہوں۔اگر ہم کذب پر ہیں تو خود ہمارا کذب ہمیں ہلاک کرنے کے واسطے کافی ہے۔ہم اس راہ پر قدم مارنے والے سب سے پہلے نہیں ہیں جو ہم گھبراجائیں کہ شاید حق والوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا کیامعاملہ ہوا کرتا ہے۔ہم جانتے ہیں کہ سنّت اللہ کیا ہے۔سرورِ انبیاء ؐ پر کروڑوں اعتراض ہوئے۔ہم پرتو اتنے ابھی نہیں ہوئے۔بعض کہتے ہیں کہ جنگ اُحدمیں آپؐکو ۷۰ تلواریں لگی تھیں۔صدق کا بیج ضائع نہیں ہوتا۔ابوبکری طبیعت تو کوئی ہوتی ہے کہ فوراً مان لے۔طبائع مختلف ہوتی ہیں مگر نشان کے ساتھ کوئی ہدایت پا نہیں سکتا۔سکینت باطنی آسمان سے نازل ہوتی ہے۔تصرّفاتِ باطنی یک دفعہ تبدیلی پیدا کردیتے ہیں۔پھر انسان ہدایت پاتا ہے۔ہدایت امرِ رَبّی ہے۔اس میں کسی کو دخل نہیں۔میرے قابو میں ہوتو مَیں سب کو قُطب اور ابدال بنادوں مگر یہ اَمر محض خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ہاں دعا کی جاتی ہے۔صُلح کی دعوت ہم طیا رہیں کہ ہمارے مخالف ہمارے ساتھ صُلح کرلیں۔میرے پا س ایک تھیلہ اُن کی گالیوں سے بھرے ہوئے کاغذات کا پڑا ہے۔ایک نیا کا غذ آیا