ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 85 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 85

ان حربوں سے بچانا چاہتا ہے اور اس زمان ترقی میں اسلام کو بغیر امداد کے نہیں چھوڑا بلکہ اس نے اسلام کی حفاظت کی اور اپنے سچے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے وعدوں کو سچا ثابت کیا اور اس کی مبارک پیشین گوئیوں کی حقیقت کھول دی اور اس صدی میں ایک شخص پیدا کر دیا۔میں بار بار کہتا ہوں کہ وہ وہی ہے جو تمہارے درمیان بول رہا ہے۔وہ صداقت کی روح اسلام میں پھونک دے گا۔وہ وہی ہے جو گمشدہ صداقتوں کو آسمانوں سے لاتا ہے اور لوگوں تک پہنچاتا ہے۔وہ بدظنیوں اور ایمانی کمزوریوں کو دور کرنا چاہتا ہے۔بد ظنی بدظنی ایک ایسا مرض ہے اور ایسی بُری بلا ہے جو انسان کو اندھا کر کے ہلاکت کے تاریک کنویں میں گرا دیتی ہے۔بدظنی ہی ہے جس نے ایک مُردہ انسان کی پرستش کرائی۔بدظنی ہی تو ہے جو لوگوں کو خدائے تعالیٰ کی صفات خَلق، رحم، رازقیت وغیرہ سے معطل کر کے نعوذ باللہ ایک فرد معطل اور شے بیکار بنا دیتی ہے۔الغرض اسی بدظنی کے باعث جہنم کا بہت بڑا حصہ اگر کہوں کہ سارا حصہ بھر جائے گا تو مبالغہ نہیں۔جو لوگ اللہ تعالیٰ کے ماموروں سے بدظنی کرتے ہیں وہ خدائے تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کے فضل کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔غرض اگر کوئی ہمارے اس سلسلہ کا جو خدائے تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے قائم کیا انکار کرے تو ہم کو افسوس ہوتا ہے کہ ہائے! ایک روح ہلاکت کے دروازہ کی زنجیر کھٹکھٹاتی ہے اور یہ سلسلہ ایسا روشن ہے کہ اگر کوئی شخص مستعد دل لے کر دو گھنٹہ بھی ہماری باتوں کو سنے تو وہ حق کو پا لے گا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے اخلاقی معجزات اب میں چاہتا ہوں کہ چند باتیں اور کہہ کر اس تقریر کو ختم کر دوں۔میں تھوڑی دیر کے لئے معجزات کے سلسلہ کی طرف پھر عود کر کے کہتا ہوں کہ ایک خوارق تو شق القمر وغیرہ کے علمی رنگ کے ہیں اور دوسرے حقائق و معارف کے۔تیسرا طبقہ معجزات کا اخلاقی معجزات ہیں۔اخلاقی کرامت میں بہت اثر ہوتا ہے۔فلاسفر لوگ معارف اور حقائق سے تسلی نہیں پا سکتے۔مگر