ملفوظات (جلد 1) — Page 73
انسان بنانا۔انسانی آداب سے مہذب انسان بنانا۔تا شرعی حدود اور احکام کے ساتھ مرحلہ طے ہو اور پھر باخدا انسان بنانا۔یہ لفظ مختصر ہیں مگر اس کے ہزارہا شعبے ہیں۔چونکہ یہودیوں، طبعیوں، آتش پرستوں اور مختلف اقوام میں بدروشی کی روح کام کر رہی تھی اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے باعلام الٰہی سب کو مخاطب کر کے کہا قُلْ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعًا (الاعراف:۱۵۹) اس لئے ضروری تھا کہ قرآن شریف ان تمام تعلیمات کا جامع ہوتا جو وقتاً فوقتاً جاری رہ چکی تھیں اور ان تمام صداقتوں کو اپنے اندر رکھتا جو آسمان سے مختلف اوقات میں مختلف نبیوں کے ذریعے زمین کے باشندوں کو پہنچائی گئیں تھیں۔قرآن کریم کے مدنظر تمام نوع انسان تھا نہ کوئی خاص قوم اور ملک اور زمانہ۔اور انجیل کا مدنظر ایک خاص قوم تھی اسی لئے مسیح علیہ السلام نے بار بار کہا کہ ’’ میں اسرائیل کی گم گشتہ بھیڑوں کی تلاش میں آیا ہوں۔‘‘ تورات کے بعد قرآن شریف کی ضرورت بعض لوگ کہتے ہیں کہ قرآن کیا لایا؟ وہی تو ہے جو توریت میں ہے اسی کوتاہ نظری نے بعض عیسائیوں کو عدم ضرورت قرآن جیسے رسائل لکھنے پر دلیر کر دیا۔کاش وہ سچی دانائی اور حقیقی فراست سے حصہ رکھتے تا وہ بھٹک نہ جاتے۔ایسے لوگ کہتے ہیں کہ توریت میں لکھا ہے کہ تو زنا نہ کر۔ایسا ہی قرآن میں لکھا ہے کہ زنا نہ کر۔قرآن توحید سکھلاتا ہے اور توریت بھی خدائے واحد کی پرستش سکھلاتی ہے۔لیکن فرق کیا ہوا؟ بظاہر یہ سوال بڑا پیچ دار ہے۔اگر کسی ناواقف آدمی کے سامنے پیش کیا جاوے تو وہ گھبرا جاوے۔اصل بات یہ ہے کہ اس قسم کے باریک اور پیچ دار سوالات کا حل بھی اللہ تعالیٰ کے خاص فضل کے بغیر ممکن نہیں۔یہی تو قرآنی معارف ہیں جو اپنے اپنے وقت پر ظاہر ہوتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ قرآن اور توریت میں تطابق ضرور ہے۔اس سے ہم کو انکار نہیں لیکن توریت نے صرف متن کو لیا ہے جس کے ساتھ دلائل، براہین اور شرح نہیں ہے لیکن قرآن کریم نے معقولی رنگ کو لیا ہے۔اس لئے کہ توریت کے وقت انسانوں کی استعدادیں وحشیانہ رنگ میں تھیں اس لئے قرآن نے وہ طریق اختیار کیا جو عبادت کے منافع کو ظاہر