ملفوظات (جلد 1) — Page 63
اس سے بڑھ کر اور مسلمانوں کی حالت قابل رحم کیا ہوگی؟ ایک نیکی سے دوسری نیکی پیدا ہوتی ہے اصل بات یہ ہے کہ بد اعمال کا نتیجہ بداعمال ہوتا ہے۔اسلام کے لئے خدائے تعالیٰ کا قانون قدرت ہے کہ ایک نیکی سے دوسری نیکی پیدا ہو جاتی ہے۔مجھے یاد آیا تذکرۃ الاولیاء میں مَیں نے پڑھا تھا کہ ایک آتش پرست بڈھا نوے برس کی عمر کا تھا۔اتفاقاً بارش کی جھڑی جو لگ گئی تو وہ اس جھڑی میں کوٹھے پر چڑیوں کے لئے دانے ڈال رہا تھا۔کسی بزرگ نے پاس سے کہا کہ ارے بڈھے! تو کیا کرتا ہے؟ اس نے جواب دیا کہ بھائی چھ سات روز متواتر بارش ہوتی رہی ہے۔چڑیوں کو دانہ ڈالتا ہوں۔اس نے کہا کہ تُو عبث حرکت کرتا ہے۔تُو کافر ہے۔تجھے اجر کہاں؟ بوڑھے نے جواب دیا۔مجھے اس کا اجر ضرور ملے گا۔بزرگ صاحب فرماتے ہیں کہ میں حج کو گیا تو دور سے کیا دیکھتا ہوں کہ وہی بوڑھا طواف کر رہا ہے۔اس کو دیکھ کر مجھے تعجب ہوا اور جب میں آگے بڑھا تو پہلے وہی بولا کیا میرا دانے ڈالنا ضائع گیا یا ان کا عوض ملا؟ نیکی کا اجر ضائع نہیں ہوتا اب خیال کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک کافر کی نیکی کا اجر بھی ضائع نہیں کیا تو کیا مسلمان کی نیکی کا اجر ضائع کر دے گا؟ مجھے ایک صحابی کا ذکر یاد آیا کہ اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے اپنے کفر کے زمانہ میں بہت سے صدقات کئے ہیں کیا ان کا اجر مجھے ملے گا۔آپ نے فرمایا کہ وہی صدقات تو تیرے اسلام کا موجب ہو گئے ہیں۔نیکی کیا چیز ہے؟ نیکی ایک زینہ ہے اسلام اور خدا کی طرف چڑھنے کا لیکن یاد رکھو کہ نیکی کیا چیز ہے۔شیطان ہر ایک راہ میں لوگوں کی راہ زنی کرتا اور ان کو راہ حق سے بہکاتا ہے۔مثلاً رات کو روٹی زیادہ پک گئی اور صبح کو باسی بچ رہی۔عین کھانے کے وقت کہ اس کے سامنے اچھے اچھے کھانے رکھے ہیں۔ابھی لقمہ نہیں اُٹھایا کہ دروازہ پر آکر فقیر نے صدا کی اور روٹی مانگی۔کہا کہ باسی روٹی سائل کو دے دو۔کیا یہ نیکی ہو گی؟ باسی روٹی تو پڑی ہی رہنی تھی۔تنعم پسند