ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 62 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 62

روشنی کی راہیں تم پر کھولتا ہے مگر تم ان پر قدم مارنے کے لئے عقل اور تزکیۂ نفوس سے کام لو۔جیسے زمین کہ جب تک ہل چلا کر طیار نہیں کی جاتی، تخم ریزی اس میں نہیں ہوتی۔اسی طرح جب تک مجاہدہ اور ریاضت سے تزکیہ نفوس نہیں ہوتا پاک عقل آسمان سے اتر نہیں سکتی۔اس زمانہ میں خدا نے بڑا فضل کیا اور اپنے دین اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تائید میں غیرت کھا کر ایک انسان کو جو تم میں بول رہا ہے بھیجا تا کہ وہ اس روشنی کی طرف ان کو بلائے۔اگر زمانہ میں ایسا فساد اور فتنہ نہ ہوتا اور دین کے محو کرنے کے واسطے جس قسم کی کوششیں ہو رہی ہیں نہ ہوتیں تو چنداں حرج نہ تھا مگر اب تم دیکھتے ہو کہ ہر طرف یمین و یسار اسلام ہی کو معدوم کرنے کی فکر میں قومیں لگی ہوئی ہیں۔مجھے یاد ہے اور براہین احمدیہ میں بھی میں نے ذکر کیا ہے کہ اسلام کے خلاف چھ کروڑ کتابیں تصنیف اور تالیف ہو کر شائع کی گئی ہیں۔عجیب بات ہے کہ ہندوستان کے مسلمانوں کی تعداد بھی چھ کروڑ اور اسلام کے خلاف کتابوں کا شمار بھی اسی قدر۔اگر اس زیادہ تعداد کو جو اَب تک ان تصنیفات میں ہوئی ہے چھوڑ بھی دیا جائے تو بھی ہمارے مخالف ایک ایک کتاب ہر ایک مسلمان کے ہاتھ میں دے چکے ہیں۔اگر اللہ تعالیٰ کا جوشِ غیرت نہ ہوتا اور اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ (الحجر:۱۰) اس کا وعدہ صادق نہ ہوتا تو یقیناً سمجھ لو کہ اسلام آج دنیا سے اٹھ جاتا اور اس کا نام و نشان تک مٹ جاتا مگر نہیں ایسا نہیں ہوسکتا۔خدا کا پوشیدہ ہاتھ اس کی حفاظت کر رہا ہے۔مجھے افسوس اور رنج اس امر کا ہوتا ہے کہ لوگ مسلمان کہلا کر ناطے بیاہ کے برابر بھی تو اسلام کا فکر نہیں کرتے اور مجھے اکثر بار پڑھنے کا اتفاق ہوا ہے کہ عیسائی عورتوں تک مرتے وقت لکھوکھ ہا روپیہ عیسائی دین کی ترویج اور اشاعت کے لئے وصیت کر مَرتی ہیں اور ان کا اپنی زندگیوں کو عیسائیت کی اشاعت میں صرف کرنا تو ہم روز دیکھتے ہیں۔ہزارہا لیڈی مشنریز گھروں اور کوچوں میں پھرتی اور جس طرح بن پڑے نقد ایمان چھینتی پھرتی ہیں۔مسلمانوں میں سے کسی ایک کو نہیں دیکھا کہ وہ پچاس ہزار روپیہ بھی اشاعت اسلام کے لئے وصیت کر مَرا ہو۔ہاں شادیوں اور دنیاوی رسوم پر تو بے حد اسراف ہوتے ہیں اور قرض لے کر بھی دل کھول کے فضول خرچیاں کی جاتی ہیں مگر خرچ کرنے کے لئے نہیں تو اسلام کے لئے نہیں۔افسوس ! افسوس !!