ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 484 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 484

ہوگا۔غرض یاد رکھو کہ دو پہلو ہیں۔ایک عظمت الٰہی کا جو اُس کے خلاف ہے وہ بھی اخلاق کے خلاف ہے اور دوسرا شفقت علیٰ خلق اللہ کا۔پس جو نوعِ انسان کے خلاف ہو وہ بھی اخلاق کے برخلاف ہے۔آہ! بہت تھوڑے لوگ ہیں جو ان باتوں پر جو انسان کی زندگی کا اصل مقصد اور غرض ہیں غور کرتے ہیں۔خود ساختہ وظائف و اذکار بڑے بڑے صوفیوں، سجادہ نشینوں نے اپنا کمال اس میں سمجھ رکھا ہے کہ بڑے لمبے چوڑے وظائف اور اذکار و اشغال خود ہی تجویز کر لئے ہیں اور اُن میں پڑ کر اصل کو بھی کھو بیٹھے ہیں۔پھر بڑے سے بڑا کام کیا تو یہ کرلیا کہ چلّہ کرتے ہیں۔کچھ جو ساتھ لے جاتے ہیں۔ایک آدمی مقرر کرلیتے ہیں جو ہر روز دودھ یا اور کوئی چیز پہنچا آتا ہے۔ایک تنگ و تاریک گندی سی کوٹھڑی یا غار ہوتی ہے اور اس میں پڑے رہتے ہیں۔خدا جانے وہ اس میں کس طرح رہتے ہیں۔پھر بُری بُری حالتوں میں باہر نکلتے ہیں۔یہ اسلام رہ گیا ہے۔میری سمجھ میں نہیں آتا کہ ان چلّہ کشیوں سے اسلام اور مسلمانوں یا عام لوگوں کو کیا فائدہ پہنچتا ہے اور اس میں اخلاق میں کیا ترقی ہوتی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی علوِّ شان سب عزتوں سے بڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت ہے جس کا کل اسلامی دنیا پر اثر ہے۔آپؐ ہی کی غیرت نے پھر دنیا کو زندہ کیا۔عرب جن میں زنا، شراب اور جنگ جوئی کے سوا کچھ رہا ہی نہ تھا اور حقوق العباد کا خون ہوچکا تھا۔ہمدردی اور خیر خواہی نوعِ انسان کا نام و نشان تک مِٹ چکا تھا اور نہ صرف حقوق العباد ہی تباہ ہوچکے تھے بلکہ حقوق اللہ پر اس سے بھی زیادہ تاریکی چھاگئی تھی۔اللہ تعالیٰ کی صفات پتھروں، بوٹیوں اور ستاروں کو دی گئی تھیں۔قسم قسم کا شرک پھیلا ہوا تھا۔عاجز انسان اور انسان کی شرمگاہوں تک کی پوجا دنیا میں ہورہی تھی۔ایسی حالتِ مکروہ کا نقشہ اگر ذرا دیر کے لیے بھی ایک سلیم الفطرت انسان کے سامنے آجاوے تو وہ ایک خطرناک ظلمت اور ظلم و جور کے بھیانک اور خوفناک نظارہ کو دیکھے گا۔فالج ایک طرف گرتا ہے مگر یہ فالج ایسا فالج تھا کہ دونوں طرف گرا تھا۔فساد کامل دنیا میں برپا ہوچکا تھا۔نہ بحَر میں امن و سلامتی تھی اور نہ بَرّ پر