ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 457 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 457

کہتا ہے کہ تیرے لیے بھی ایسا ہی ہو۔کیسی اعلیٰ درجہ کی بات ہے۔اگر انسان کی دعا منظور نہ ہو تو فرشتہ کی تو منظور ہوتی ہے۔میں نصیحت کرتا ہوں اور کہنا چاہتا ہوں کہ آپس میں اختلاف نہ ہو۔میں دو ہی مسئلے لے کر آیا ہوں۔اول خدا کی توحید اختیار کرو۔دوسرے آپس میں محبت اور ہمدردی ظاہر کرو۔وہ نمونہ دکھاؤ کہ غیروں کے لیے کرامت ہو۔یہی دلیل تھی جو صحابہؓ میں پیدا ہوئی تھی كُنْتُمْ اَعْدَآءً فَاَلَّفَ بَيْنَ قُلُوْبِكُمْ (اٰل عـمران: ۱۰۴) یاد رکھو! تالیف ایک اعجاز ہے۔یاد رکھو! جب تک تم میں ہر ایک ایسا نہ ہو کہ جو اپنے لیے پسند کرتا ہے وہی اپنے بھائی کے لیے پسند کرے وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔وہ مصیبت اور بلا میں ہے۔اس کا انجام اچھا نہیں۔میں ایک کتاب بنانے والا ہوں۔اس میں ایسے تمام لوگ الگ کر دئیے جائیں گے جو اپنے جذبات پر قابو نہیں پا سکتے۔چھوٹی چھوٹی باتوں پر لڑائی ہوتی ہے۔مثلاً ایک شخص کہتا ہے کہ کسی بازیگر نے دس گز کی چھلانگ ماری ہے۔دوسرا اُس پر بحث کرنے بیٹھتا ہے اور اس طرح پر کینہ کا وجود پیدا ہو جاتا ہے۔یاد رکھو بغض کا جدا ہونا مہدی کی علامت ہے اور کیا وہ علامت پوری نہ ہوگی۔وہ ضرور ہوگی۔تم کیوں صبر نہیں کرتے۔جیسے طبّی مسئلہ ہے کہ جب تک بعض امراض میں قلع قمع نہ کیا جاوے مرض دفع نہیں ہوتا۔میرے وجود سے انشاء اللہ ایک صالح جماعت پیدا ہوگی۔باہمی عداوت کا سبب کیا ہے۔بخل ہے، رعونت ہے، خود پسندی ہے اور جذبات ہیں۔میں نے بتلایا ہے کہ میں عنقریب ایک کتاب لکھوں گا اور ایسے تمام لوگوں کو جماعت سے الگ کردوں گا جو اپنے جذبات پر قابو نہیں پا سکتے اور باہم محبت و اخوت سے نہیں رہ سکتے۔جو ایسے ہیں وہ یاد رکھیں کہ وہ چند روزہ مہمان ہیں جب تک کہ عمدہ نمونہ نہ دکھائیں۔میں کسی کے سبب سے اپنے اُوپر اعتراض لینا نہیں چاہتا۔ایسا شخص جو میری جماعت میں ہو کر میرے منشا کے موافق نہ ہو وہ خشک ٹہنی ہے۔اُس کو اگر باغبان کاٹے نہیں تو کیا کرے؟ خشک ٹہنی دوسری سبز شاخ کے ساتھ رہ کر پانی تو چوستی ہے مگر وہ اُس کو سر سبز نہیں کر سکتا بلکہ وہ شاخ دوسری کو بھی لے بیٹھتی ہے۔پس ڈرو! میرے ساتھ وہ نہ رہے گا جو اپنا علاج نہ کرے گا۔چونکہ یہ سب باتیں میں کتاب میں