ملفوظات (جلد 1) — Page 451
اس کو شرمندہ کر دیتی ہے اور اس کی اصلاح کا موجب ہوتی ہے تو اس کو سخت سزا مناسب نہیں مگر دوسرا عمداً شرارت کرتا ہے اس کو عفو کریں تو بگڑتا ہے اس کو سزا ہی دی جاوے تو بتاؤ کہ مناسب حکم وہ ہے جو قرآن حکیم نے دیا ہے یا وہ جو انجیل پیش کرتی ہے؟قانون قدرت کیا چاہتا ہے؟ وہ تقسیم اور رویت محل چاہتا ہے۔یہ تعلیم کہ عفو سے اصلاح مد نظر ہو ایسی تعلیم ہے جس کی نظیر نہیں اور اسی پر آخر متمدّن انسان کو چلنا پڑتا ہے اور یہی تعلیم ہے جس پر عمل کرنے سے انسان میں قوت اجتہاد اور تدبر اور فراست بڑھتی ہے۔گویا یوں کہا گیا ہے کہ ہر طرح کی شہادت سے دیکھو اور فراست سے غور کرو۔اگر عفو سے فائدہ ہو تو معاف کرو لیکن اگر خبیث اور شریر ہے تو پھر جَزٰٓؤُا سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِّثْلُهَا پر عمل کرو۔اسی طرح پر اسلام کی دوسری پاک تعلیمات ہیں جو ہر زمانہ میں روز روشن کی طرح ظاہر ہیں۔آفتاب پر بھی کسی وقت بادل آجاتا ہے اور بظاہر ایک قسم کا دھندلا سا نظر آتا ہے لیکن اسلام کا چہرہ اس سے بھی مصفّا ہے۔عدم معرفت نے لوگوں کو اندھا کر دیا ہے اور بغض کی نظر سے دیکھتے ہیں۔اس لئے موتیا بند کی حالت سے بھی گئے گزرے ہیں پھر کیا فیصلہ کریں؟ عیسائیت کے عقائد جس قدر مذہب دنیا میں موجود ہیں سب کے سب بے برکت اور بے نور اور مُردہ ہیں اور پاک تعلیم سے بے بہرہ محض ہیں۔ہندوؤں نے مذہب کا وہ نمونہ دکھایا۔عیسائیوں نے یہ نمونہ دکھایا کہ ایک عاجز بندہ کو خدا بنا دیا جس نے یہودیوں جیسی تباہ حال قوم سے جو ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَ الْمَسْكَنَةُ (البقرۃ:۶۲) کی مصداق تھی ماریں کھائیں اور آخر صلیب پر لٹکایا گیا اور ان کے عقیدہ کے موافق ملعون ہو کر ایلی ایلی لما سبقتنی کہتے ہوئے جان دے دی۔غور تو کرو کہ کیا ایسی صفات والا کبھی خدا ہو سکتا ہے؟ وہ تو خدا پرست بھی نہیں ہو سکتا چہ جائیکہ وہ خود خدا ہو۔عیسائی دکھاتے ہیں کہ اس کی وہ ساری رات کی پُر سوز دعا محض بے اثر گئی۔اس سے زیادہ بے برکتی کا ثبوت کیا ہو سکتا ہے؟ اور اس سے کیا توقع ہو سکتی ہے کہ وہ دوسروں کے لئے شفیع ہو سکتا ہے؟ ہم کو یاد نہیں کہ دو گھنٹے بھی دعا کے لئے ملے ہوں اور وہ دعا قبول نہ ہوئی ہو۔ابن اللہ بلکہ خود خدا کا معاذ اللہ یہ حال ہے کہ ساری رات رو رو کر چلّا چلّا کر خود بھی دعا