ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 442 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 442

۱۱؍اپریل۱۹۰۰ء یوم العرفات کو دعا یوم العرفات کو علی الصبح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بذریعہ ایک خط کے حضرت مولانا نور الدین صاحب کو اطلاع دی کہ میں آج کا دن اور رات کا کسی قدر حصہ اپنے اور اپنے دوستوں کے لئے دعا میں گزارنا چاہتا ہوں اس لئے وہ دوست جو یہاں موجود ہیں اپنا نام اور جائے سکونت لکھ کر میرے پاس بھیج دیں تاکہ دعا کرتے وقت مجھے یاد رہے۔اس پر تعمیل ارشاد میں ایک فہرست احباب کی ترتیب دے کر حضورؑ کی خدمت میں بھیج دی گئی۔اس کے بعد اور احباب باہر سے آگئے جنہوں نے زیارت و دعا کے لئے بے قراری ظاہر کی اور رقعے بھیجنے شروع کر دیئے۔حضور نے دوبارہ اطلاع بھیجی کہ میرے پاس کوئی رقعہ وغیرہ نہ بھیجے۔اس طرح پر سخت حرج ہوتا ہے۔مغرب اور عشاء میں حضور تشریف لائے جو جمع کرکے پڑھی گئیں۔بعد فراغت فرمایا۔چونکہ میں خدا تعالیٰ سے وعدہ کر چکا ہوں کہ آج کا دن اور رات کا حصہ دعاؤں میں گزاروں اس لئے میں جاتا ہوں تا کہ تخلّفِ وعدہ نہ ہو۔یہ فرما کر حضور تشریف لے گئے اور دعاؤں میں مشغول ہو گئے۔دوسری صبح عید کے دن مولوی عبدالکریم صاحب نے اندر جا کر تقریر کرنے کے لئے خصوصیت سے عرض کی۔اس پر حضور نے فرمایا۔خدا نے ہی حکم دیا ہے۔اور پھر فرمایا کہ رات الہام ہوا ہے کہ مجمع میں کچھ عربی فقرے پڑھو۔میں کوئی اور مجمع سمجھتا تھا۔شاید یہی مجمع ہو۔۱۰۴؎