ملفوظات (جلد 1) — Page 441
اس کی تکلیف سن کر اس کا پِتّا پانی ہو جاتا ہے تو کیا اب ہمارے دلوں کو سرکار انگلشیہ کے وفادار سپاہیوں کے مصائب پڑھ کر صدمہ نہیں پہنچتا۔میرے نزدیک وہ بڑا سیاہ دل ہے جسے گورنمنٹ کے دکھ اپنے دکھ معلوم نہیں ہوتے۔یاد رکھو جذام کئی قسم کے ہوتے ہیں۔ایک جذام جسم کو لگ جاتا ہے جس کو کوڑھ کہتے ہیں۔اور ایک جذام روح کو لگ جاتا ہے۔ہمارے یہاں ایک شخص بازار میں رہا کرتا تھا۔اگر کوئی مقدمہ کسی پر ہو جاتا تو پوچھا کرتا تھا کہ مقدمہ کی کیا صورت ہے؟ اگر کسی نے کہہ دیا کہ وہ بری ہو گیا یا اچھی صورت ہے تو اس پر آفت آجاتی اور چپ ہو جاتا اگر کوئی کہہ دیتا کہ فرد قرارداد جرم لگ گئی تو بہت خوش ہوتا اور اس کو پاس بٹھا کر سارا قصہ سنتا۔غرض بعض آدمیوں کی فطرت میں بداندیشی کا مادہ ہوتا ہے کہ وہ بری خبریں سننا چاہتے ہیں اور کسی کی برائی پر خوش ہوتے ہیں۔چونکہ شیطان کی سیرت ان کے اندر ہوتی ہے۔پس بدخواہی کسی انسان کی بھی اچھی نہیں چہ جائیکہ محسن کی ہو لہٰذا میں اپنی جماعت کو کہتا ہوں کہ وہ ایسے لوگوں کا نمونہ اختیار نہ کریں بلکہ پوری ہمدردی اور سچی خیر خواہی کے ساتھ برٹش گورنمنٹ کی کامیابی کے لئے دعا کریں اور عملی طور پر بھی وفاداری کے نمونے دکھائیں۔مُحسِن کا شکر کرو ہم یہ باتیں کسی صلہ یا انعام کی خاطر نہیں کرتے۔ہم کو صلہ اور انعام اور دنیوی خطابات سے کیا غرض۔ہماری نیات کو علیم خدا خوب جانتا ہے کہ ہمارا کام محض اس کے لئے اور اسی کے اَمر سے ہے۔اسی نے ہم کو تعلیم دی ہے کہ محسن کا شکر کرو۔ہم اس شکر گزاری میں اپنے مولا کریم کی اطاعت کرتے ہیں اور اسی سے انعام کی امید رکھتے ہیں۔سو تم جو میری جماعت ہو اپنی محسن گورنمنٹ کی خوب قدر کرو۔اب میں چاہتا ہوں کہ ٹرانسوال کی جنگ کے لئے ہم دعا کریں۔(اس کے بعد حضرت اقدس نے نہایت جوش اور خلوص کے ساتھ دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے اور سب حاضرین نے جن کی تعداد ایک ہزار سے متجاوز تھی۔دعا کی۔) ۱۰۳؎