ملفوظات (جلد 1) — Page 396
اور اس کو حکّام کے سپُرد کرا دے گا۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ انجیل معطّل پڑی ہے اور قرآن شریف پر عمل ہورہا ہے۔ایک مفلس اور نادار بڑھیا بھی جس کے پاس ایک جَو کی روٹی کا ٹکڑا ہے اس ٹکڑے میں سے ایک حصہ دے کر مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ میں داخل ہوسکتی ہے۔لیکن انجیل کے طمانچہ کھاکر گال پھیرنے کی تعلیم میں مقدس سے مقدس پادری بھی شامل نہیں ہوسکتا۔بہ بیں تفاوتِ راہ از کُجاست تا بہ کجا # انجیل تو اس پہلو میں یہاں تک گری ہوئی ثابت ہوتی ہے کہ اور تو اور خود حضرت مسیح بھی اس پر پورا عمل نہ دکھا سکے اور وہ تعلیم جو خود پیش کی تھی عملی پہلو میں اُنہوں نے ثابت کردیا کہ وہ کہنے ہی کے لئے ہے ورنہ چاہیے تھا کہ اس سے پیشتر کہ وہ گرفتار ہوتے خود اپنے آپ کو دشمنوں کے حوالے کردیتے اور دعائیں مانگنے اور اضطراب ظاہر کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی۔اس سے نہ صرف یہ ثابت ہوتا کہ وہ جو کچھ کہتے ہیں کرکے بھی دکھاتے ہیں بلکہ یہ بھی ثابت ہوجاتا کہ وہ کفّارہ ہی کے لئے آئے ہیں کیونکہ اگر اُن کی زندگی کا یہی کام تھا کہ وہ خودکشی کے طریق سے دنیا کو نجات دیں اور بقول عیسائیوں کے خدا بجز اس صورت کے نجات دے ہی نہیں سکتا تھا تو اُن کو چاہیے تھا کہ جس کام کے لئے وہ بھیجے گئے تھے وہ تو یہی تھا پھر وعظ اور تبلیغ کی ضرورت ہی کیا تھی؟ کیوں نہ آتے ہی یہ کہہ دیا کہ مجھے پکڑو اور پھانسی دے دو۔تاکہ دنیا کی رُستگاری ہو۔۹۱؎ قرآنی تعلیم انسانی قویٰ کی تکمیل کرتی ہے غرض قرآن شریف کی تعلیم ثابت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ حکیم ہے اور ذرّہ ذرّہ اس کے آگے ہے اور اس نے ایسی تعلیم دی ہے جو انسانی قویٰ کی تکمیل کرتی ہے اور عفو اور انتقام کو محل اور موقع پر رکھنے کے واسطے اس سے بڑھ کر تعلیم نظر نہیں آئے گی۔اگر کوئی اس تعلیم کے خلاف اور کچھ پیش کرتا ہے تو وہ گویا قانونِ الٰہی کو درہم برہم کرنا چاہتا ہے۔بعض طبائع طبعاً عفو چاہتی ہیں اور بعض