ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 395 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 395

اصل بات یہ ہے کہ اس سے بخل ثابت نہیں ہوتا۔قرآن شریف خدائے حکیم کا کلام ہے۔حکمت کے معنی ہیں شے را برمحل داشتن #۔پس مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ میں اسی اَمر کی طرف اشارہ ہے کہ محل اور موقع کو دیکھ کر خرچ کرو۔جہاں تھوڑا خرچ کرنے کی ضرورت ہے وہاں تھوڑا خرچ کرو اور جہاں بہت خرچ کرنے کی ضرورت ہے وہاں بہت خرچ کرو۔عفو اب مثلاً عفو ہی ایک اخلاقی قوت ہے۔اس کے لئے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ آیا عفو کے لائق ہے یا نہیں۔مجرم دو قسم کے ہوتے ہیں۔بعض تو اس قسم کے ہوتے ہیں کہ ان سے کوئی حرکت ایسی سرزد ہوجاتی ہے جو غصہ تو لاتی ہے لیکن وہ معافی کے قابل ہوتے ہیں اور ایسے ہوتے ہیں کہ اگر اُن کی کسی شرارت پر چشم پوشی کی جاوے اور اُن کو معاف کردیا جاوے تو وہ زیادہ دلیر ہوکر مزید نقصان کا باعث بنتے ہیں۔مثلاً ایک خدمت گار ہے جو بڑا نیک اور فرماں بردار ہے۔وہ چاء لایا۔اتفاق سے اُس کو ٹھوکر لگی اور چاء کی پیالی گر کر ٹوٹ گئی اور چاء بھی مالک پر گر گئی اگر اُس کو مارنے کے لئے اُٹھ کھڑا ہو اور تیز و تُند ہوکر اُس پر جا پڑے تو یہ سفاہت ہوگی۔یہ عفو کا مقام ہے کیونکہ اس نے عمداً شرارت نہیں کی ہے اور عفو اس کو زیادہ شرمندہ کرتا اور آئندہ کے لئے محتاط بناتا ہے لیکن اگر کوئی ایسا شریر ہے کہ وہ ہر روز توڑتا ہے اور یوں نقصان پہنچاتا ہے اس پر رحم یہی ہوگا کہ اُس کو سزادی جاوے۔پس یہی حکمت ہے مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ میں۔ہر ایک مومن اپنے نفس کا مجتہد ہوتا ہے۔وہ محل اور موقع کی شناخت کرے اور جس قدر مناسب ہو خرچ کرے۔انجیل کی ناقابلِ عمل تعلیم مَیں ابھی بتاچکا ہوں کہ قرآن شریف کی تعلیم حکیمانہ نظام اپنے اندر رکھتی ہے۔اس کے بالمقابل انجیل کی تعلیم کو دیکھو کہ ایک گال پر طمانچہ کھا کر دوسری پھیر دے وغیرہ وغیرہ۔کیسی قابلِ اعتراض ہے کہ اس کی پردہ پوشی نہیں ہوسکتی اور اس کی تمدنی صورت ممکن ہی نہیں ہے یہاں تک کہ بڑے سے بڑا نرم خو اور تقدس مآب پادری بھی اس تعلیم پر عمل نہیں کرسکتا۔اگر کوئی انجیل کی اس تعلیم کا عملی ثبوت لینے کے لئے کسی پادری صاحب کے مُنہ پر طمانچہ مارے تو وہ بجائے اس کے کہ دوسری گال پھیرے پولیس کے پاس دوڑا جاوے گا