ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 391 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 391

اگر اس سے رہ جاوے تو وہ بے فائدہ ہوجاتی ہے۔مثلاً ایک بیل جو قلبہ رانی کے واسطے خریدا گیا ہے اپنے منصب پر اُس وقت قائم سمجھا جاوے گا کہ وہ کرکے دکھا دے، نہ صرف یہ کہ اس کی غرض و غایت کھانے پینے ہی تک محدود رہے، وہ اپنی علّتِ غائی سے دُور ہے اور اس قابل ہے کہ اُس کو ذبح کیا جاوے۔اقامتِ صلوٰۃ اسی طرح يُقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ سے لوازم الصلوٰۃ معراج ہے اور یہ وہ حالت ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے تعلق شروع ہوتا ہے۔مکاشفات اور رؤیاءِ صالحہ آتے ہیں لوگوں سے انقطاع ہوتا جاتا ہے اور خدا کی طرف ایک تعلق پیدا ہونے لگتا ہے۔یہاں تک کہ تبتّلِ تام ہوکر خدا میں جا ملتا ہے۔صلٰی جلنے کو کہتے ہیں۔جیسے کباب کو بھونا جاتا ہے اسی طرح نماز میں سوزش لازمی ہے۔جب تک دل بریاں نہ ہو نماز میں لذّت اور سرور پیدا نہیں ہوتا اور اصل تو یہ ہے کہ نماز ہی اپنے سچے معنوں میں اُس وقت ہوتی ہے۔نماز میں یہ شرط ہے کہ وہ بجمیع شرائط ادا ہو۔جب تک وہ ادا نہ ہو وہ نماز نہیں ہے اور نہ وہ کیفیت جو صلوٰۃ میں میلِ نماز کی ہے حاصل ہوتی ہے۔یاد رکھو صلوٰۃ میں حال اور قال دونوں کا جمع ہونا ضروری ہے۔بعض وقت اعلام تصویری ہوتا ہے۔ایسی تصویر دکھائی جاتی ہے جس سے دیکھنے والے کو پتہ ملتا ہے کہ اُس کا منشا یہ ہے۔ایسا ہی صلوٰۃ میں منشائے الٰہی کی تصویر ہے۔نماز میں جیسے زبان سے کچھ پڑھا جاتا ہے ویسے ہی اعضا اور جوارح کی حرکات سے کچھ دکھایا بھی جاتا ہے۔جب انسان کھڑا ہوتا ہے اور تحمید و تسبیح کرتا ہے، اس کا نام قیام رکھا ہے۔اب ہر ایک شخص جانتا ہے کہ حمدوثنا کے مناسبِ حال قیام ہی ہے۔بادشاہوں کے سامنے جب قصائد سنائے جاتے ہیں تو آخر کھڑے ہوکر ہی پیش کرتے ہیں۔اِدھر تو ظاہری طور پر قیام رکھا ہی ہے اور زبان سے حمدوثنا بھی رکھی ہے۔مطلب اس کا یہی ہے کہ روحانی طور بھی اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑا ہو۔حمد ایک بات پر قائم ہوکر کی جاتی ہے۔جو شخص مُصدق ہوکر کسی کی تعریف کرتا ہے تو وہ ایک رائے پر قائم ہوجاتا ہے۔اس اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ کہنے والے کے واسطے یہ ضروری ہوا کہ وہ سچے طور پر