ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 390 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 390

غیر متغیر ہے۔کہتے ہو مسیحؑ خالق نہیں مگر مانتے ہو کہ اس نے بھی کچھ چڑیاں بنائی تھیں جو اِن چڑیوں میں مل گئی ہیں۔کہتے ہو مسیحؑ عالم الغیب نہیں مگر یہ مانتے ہو کہ وہ تمہارے کھانے پینے کی چیزوں اور تمہارے گھروں کے ذخیروں کی اطلاع دے دیتا تھا۔بڑے شرم کی بات ہے کہ مسلمان کہلا کر ایک خدا کو تمام صفاتِ کاملہ سے موصوف مان کر پھر اُس کی صفات ایک عاجز انسان کو دو۔کچھ تو خدا کا خوف بھی کرو۔یہی باتیں ہیں جنہوں نے نصاریٰ کی قوم کو جرأت دلا دی ہے اور تمہاری قوم کا ایک بڑا حصہ گمراہ کر ڈالا۔تمہیں کب خبر ہوگی جب سارا گھر لُٹ چکے گا؟ تم میرے ساتھ دشمنی نہیں کرتے مگر اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہو۔مَیں نے کونسی انوکھی بات کہی تھی۔مَیں تم سے کیا کچھ مانگتا ہوں۔پھر مجھ سے عداوت کی کیا وجہ؟ کیا اس لیے کہ مَیں کہتا ہوں کہ ایک ہی کامل الصفات ذات ہے جو عبادت کے قابل ہے۔اس کے صفات کسی انسان کو نہ دو۔کیا اس لیے کہ مَیں یہ کہتا ہوں کہ دنیا میں ایک ہی کامل انسان گزرا ہے جس کا نام محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔کیا اس لیے کہ میں کہتا ہوں کہ مسیح کے درجات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درجات سے ہرگز نہ بڑھاؤ۔اس لیے کہ وہ اُن صفات سے ہرگز موصُوف نہیں جن سے موصوف تم مانتے ہو۔خدا کے لئے سوچو! یہ یاد رکھو کہ آخر مَرنا ہے اور خدا کے حضور جانا ہے۔تقویٰ کے تین مراتب غرض بات یہ تھی کہ قرآن شریف میں ترتیب کو مدنظر رکھنا ضروری ہے اور یہ آیتیں جو مَیں نے پڑھی تھیں،اُن میں ترتیب کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔يُؤْمِنُوْنَ ۱؎ بِالْغَيْبِ وَ يُقِيْمُوْنَ ۲؎ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا ۳؎ رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ (البقرۃ:۴) یاد رکھو اِتّقَا تین قسم کا ہوتا ہے۔پہلی قسم اِتّقَا کی علمی رنگ رکھتی ہے۔یہ حالت ایمان کی صورت میں ہوتی ہے۔دوسری قسم عملی رنگ رکھتی ہے جیسا کہ يُقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ میں فرمایا ہے۔انسان کی وہ نمازیں جو شبہات اور وساوس میں مبتلا ہیں کھڑی نہیں ہوتی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے یَقْرَؤُوْنَ نہیں فرمایا بلکہ يُقِيْمُوْنَ فرمایا یعنی جو حق ہے اُس کے ادا کرنے کا۔سنو! ہر ایک چیز کی ایک علّتِ غائی ہوتی ہے۔