ملفوظات (جلد 1) — Page 356
کرنے کا موجب ہوئی۔جو کچھ اس میں سے میں ضبط رکھ سکا وہ آپ کو سناتا ہوں آپ توجہ سے سنیں۔اس زمانہ کے فتنہ و فساد کا ذکر تھا۔فرمایا۔ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ اس زمانہ کے درمیان جو فتنہ اسلام پر پڑا ہوا ہے اس کے دُور کرنے میں کچھ حصہ لے جاوے۔بڑی عبادت یہی ہے کہ اس فتنہ کے دُور کرنے میں ہر ایک حصہ لے۔اس وقت جو بدیاں اور گستاخیاں پھیلی ہوئی ہیں چاہیے کہ اپنی تقریر اور علم کے ساتھ اور ہر ایک قوت کے ساتھ جو اس کو دی گئی ہے مخلصانہ کوشش کے ساتھ ان باتوں کو دنیا سے اُٹھاوے۔اگر اسی دنیا میں کسی کو آرام اور لذّت مل گئی تو کیا فائدہ؟ اگر دنیا میں بھی اجر پا لیا تو کیا حاصل؟ عقبیٰ کا ثواب لو جس کا انتہا نہیں۔ہر ایک کو خدا کی توحید و تفرید کے لیے ایسا جوش ہونا چاہیے جیسا خود خدا کو اپنی توحید کا جوش ہے غور کرو کہ دنیا میں اس طرح کا مظلوم کہاں ملے گا جیسا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔کوئی گند اور گالی اور دشنام نہیں جو آپ کی طرف نہ پھینکی گئی ہو۔کیا یہ وقت ہے کہ مسلمان خاموش ہو کر بیٹھ رہیں؟ اگر اس وقت میں کوئی کھڑا نہیں ہوتا اور حق کی گواہی دے کر جھوٹے کے منہ کو بند نہیں کرتا اور جائز رکھتا ہے کہ کافر بے حیائی سے ہمارے نبی پر اتہام لگائے جائے اور لوگوں کو گمراہ کرتا جائے تو یاد رکھو کہ وہ بے شک بڑی باز پرس کے نیچے ہے۔چاہیے کہ جو کچھ علم اور واقفیت تم کو حاصل ہے وہ اس راہ میں خرچ کرو اور لوگوں کو اس مصیبت سے بچاؤ۔حدیث سے ثابت ہے کہ اگر تم دجّال کو نہ مارو تب بھی وہ تو مَر ہی جائے گا۔مثل مشہور ہے ہر کمالے را زوالے۔تیرھویں صدی سے یہ آفتیں شروع ہوئیں اور اب وقت قریب ہے کہ اس کا خاتمہ ہوجاوے۔ہر ایک کا فرض ہے کہ جہاں تک ہو سکے پوری کوشش کرے نور اور روشنی لوگوں کو دکھائے۔خدا کے نزدیک ولی اللہ اور صاحب برکات وہی ہے جس کو یہ جوش حاصل ہو جائے۔خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ اس کا جلال ظاہر ہو۔نماز میں جو سُبْـحٰنَ رَبِّیَ الْعَظِیْم اور سُبْـحٰنَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی کہا جاتا ہے وہ بھی خدا کے جلال کے ظاہر ہونے کی تمنا ہے خدا کی ایسی عظمت ہو کہ اس کی نظیر نہ ہو۔نماز میں تسبیح و تقدیس کرتے ہوئے یہی حالت ظاہر ہوتی ہے کہ خدا نے ترغیب دی ہے کہ طبعاً