ملفوظات (جلد 1) — Page 355
بڑا دعویٰ کشف قبور کا ہے اگر اس کا علم سچا ہے تو چاہیے کہ وہ ہمارے پاس آئے اور ہم اس کو ایسی قبروں پر لے جائیں گے جن سے ہم خوب واقف ہیں۔مگر یہ سب بیہودہ باتیں ہیں اور ان کے پیچھے پڑنا وقت کو ضائع کرنا ہے۔سعید آدمی کو چاہیے کہ ایسے خیالات میں اپنے اوقات کو خراب نہ کرے اور اس طریق کو اختیار کرے جو اللہ اور اس کے رسول اور اس کے صحابہ ؓ نے اختیار کیا۔گدّی نشینوں کے عرس اس کے بعد صاحبزادہ سراج الحق صاحب نے ایک اشتہار پڑھا جو کہ ان کے بھائی صاحب نے اپنے سلسلہ کے عرس کے واسطے مریدین کو دیا ہے۔اس میں ہر قسم کے کھانوں اور ہر قسم کے کھیل تماشوں اور ناچ رنگوں اور آتش بازیوں کا نقشہ بڑی مقفّٰی عبارت میں اور رنگین فقروں میں کھچا ہوا تھا۔اس پر گدی نشینوں کے حالات پر افسوس ہوتا رہا اور مولوی برہان الدین صاحب نے اپنے مشاہدہ کی چند گدیوں اور ان کی مجلسوں کا نقشہ کھینچ کر احباب کو خوش کیا۔چونکہ اس میں سرود سے حظّ اُٹھانے اور سرور لینے کا ذکر تھا۔اس پر حضرت اقدسؑ نے فرمایا کہ انسان میں ایک ملکہ احتظاظ کا ہوتا ہے کہ وہ سرود سے حظّ اُٹھاتا ہے اور اس کے نفس کو دھوکا لگتا ہے کہ میں اس مضمون سے سرور پا رہا ہوں مگر دراصل نفس کو صرف حظّ در کار ہوتا ہے خواہ اس میں شیطان کی تعریف ہو یا خدا کی۔جب یہ لوگ اس میں گرفتار ہو کر فنا ہو جاتے ہیں تو ان کے واسطے شیطان کی تعریف یا خدا کی سب برابر ہو جاتے ہیں۔ہماری مخفی جماعت اس پر آج کا سیر ختم ہوا۔لیکن کل کے سیر میں سے ایک بات رہ گئی تھی جس کو اب میں عرض کرنا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ آپ نے فرمایا۔ابھی ہمارے مخالفوں میں سے بہت سے ایسے آدمی بھی ہیں جن کا ہماری جماعت میں داخل ہونا مقدّر ہے۔وہ مخالفت کرتے ہیں پر فرشتے ان کو دیکھ کر ہنستے ہیں کہ تم بالآخر انہی لوگوں میں شامل ہو جاؤ گے وہ ہماری مخفی جماعت ہے جو کہ ہمارے ساتھ ایک دن مل جائے گی۔خدا تعالیٰ کی توحید و تفرید کے لئے جوش کی ضرورت پھر کھانے کے وقت حضور اقدسؑ تشریف لائے اور روٹی کھانے کے بعد حضور اقدسؑ نے ایک تقریر فرمائی جو دلوں کے واسطے نور اور ہدایت کے حاصل