ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 319 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 319

ہیں کہ ہم نے کیا ولی بننا ہے؟ اس قسم کا کلمہ میرے نزدیک کفر ہے۔خدا تعالیٰ پر بد گمانی ہے۔خدا تعالیٰ کے حضور کیا کمی ہے۔وہ کوئی سرکار کی محدود نوکریاں تو نہیں ہیں جو ختم ہو جائیں بلکہ جو کوئی خدا تعالیٰ کے ساتھ سچے تعلقات پیدا کر لے وہ ان فیوض سے بہرہ ور ہو سکتا ہے جو پہلے راستبازوں کو دیئے گئے ہیں۔بر کریماں کار ہا دشوار نیست # خدا نے جو ان کا نام ولی رکھا ہے تو کیا ولی بننا خدا تعالیٰ کے نزدیک مشکل ہو سکتا ہے بلکہ بہت ہی سہل ہے۔ہاں اس کے لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ راستی سے قدم رکھنے والا ہو اور اس کی راہ میں صبر و استقلال اور وفاداری کے ساتھ چلنے والا ہو کوئی دکھ اور کوئی تکلیف اور مصیبت اس کے قدم کو ڈگمگا نہ سکے۔جب انسان خدا تعالیٰ کے ساتھ سچا تعلق پیدا کرتا ہے اور ان باتوں سے الگ ہو جاتا ہے جو خدا تعالیٰ کی نارضامندی کا موجب ہوتی ہیں بلکہ پاکیزگی اور طہارت اختیار کرتا ہے اور گندی باتوں سے پرہیز کرتا ہے تو خدا تعالیٰ بھی اس سے ایک تعلق پیدا کر لیتا ہے اور اس کے قریب ہو جاتا ہے لیکن اگر کوئی خدا تعالیٰ سے دور ہوتا جاوے اور گندگی سے نکلنے کی کوشش نہ کرے تو پھر خدا تعالیٰ بھی اس کی پروا نہیں کرتا جیسے فرمایا ہے فَلَمَّا زَاغُوْۤا اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ (الصّف:۶) سلوک کی آسان راہ ہماری جماعت کو چاہیے کہ ہمت نہ ہار بیٹھے۔یہ بڑے مشکلات نہیں ہیں۔میں تمہیں یقیناً کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے ہمارے مشکلات آسان کر دئیے ہیں کیونکہ ہمارے سلوک کی راہیں اور ہیں۔ہمارے ہاں یہ حالت نہیں ہے کہ کمریں جھک جائیں یا ناخن بڑھائیں یا پانی میں کھڑے رہیں اور چلہ کشیاں کریں یا ہاتھ خشک کریں اور یہاں تک کہ صورتیں بھی مسخ ہو جائیں۔ان صورتوں کے اختیار کرنے سے وہ لوگ بخیال خویش با خدا ہونا چاہتے ہیں لیکن میں دیکھتا ہوں کہ خدا تو کیا ملنا ہے انسانیت بھی جاتی رہتی ہے مگر ہمارے سلوک کا یہ طریق نہیں ہے بلکہ اسلام نے بہت ہی آسان راہ رکھی ہے اور وہ کشادہ راہ ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے یوں فرمایا ہے اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ (الفاتـحۃ:۶) اب اللہ تعالیٰ نے جو یہ دعا سکھائی ہے تو اس طور پر نہیں کہ دعا تو سکھا دی لیکن سامان کچھ نہیں بلکہ جہاں دعا سکھائی ہے