ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 310 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 310

جب تک ایمان قوی نہ ہو کچھ نہیں ہوتا اگرچہ مَیں جانتا ہوں کہ اعمال کی توفیق رفتہ رفتہ ملتی ہے لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ جب تک ایمان قوی ہوتا ہے اسی قدر اعمال میں بھی قوت آتی ہے یہاں تک کہ اگر یہ قوتِ ایمانی پورے طور پر نشو و نما پا جاوے تو پھر ایسا مومن شہید کے مقام پر ہوتا ہے کیونکہ کوئی امر اس کے سدِّ راہ نہیں ہوسکتا۔وہ اپنی عزیز جان تک دینے میں بھی تامّل اور دریغ نہ کرے گا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت اور قرآن کریم کے نزول کی غرض میں نے کئی دفعہ اس سے پہلے بھی بیان کیا ہے اور اب بھی اس کا بیان کرنا فائدہ سے خالی نہیں ہے۔اس لیے مَیں پھر کہنا چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ جو انبیاء علیہم السلام کو بھیجتا ہے اور آخر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس نے دنیا کی ہدایت کے واسطے بھیجا اور قرآن مجید کو نازل فرمایا تو اس کی غرض کیا تھی؟ ہر شخص جو کام کرتا ہے اس کی کوئی نہ کوئی غرض ہوتی ہے۔ایسا خیال کرنا کہ قرآن شریف کے نازل کرنے یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بھیجنے سے اللہ تعالیٰ کی کوئی غرض اور مقصد نہیں ہے کمال درجہ کی گستاخی اور بے ادبی ہے۔کیونکہ اس میں (مَعَاذَ اللّٰہِ) اللہ تعالیٰ کی طرف ایک فعلِ عبث کو منسوب کیا جائے گا اور حالانکہ اس کی ذات پاک ہے (سُبْـحَانَہٗ وَتَعَالٰی شَاْنُہٗ)۔پس یاد رکھو کہ کتابِ مجید کے بھیجنے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے اللہ تعالیٰ نے یہ چاہا ہے کہ دنیا پر عظیم الشان رحمت کا نمونہ دکھاوے۔جیسے فرمایا مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِيْنَ (الانبیاء:۱۰۸) اور ایسا ہی قرآن مجید کے بھیجنے کی غرض بتائی کہ هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ۠ (البقرۃ:۳) یہ ایسی عظیم الشان اغراض ہیں کہ اُن کی نظیر نہیں پائی جاسکتی۔اسی لئے اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ جیسے تمام کمالاتِ متفرقہ جو انبیاء علیہم السلام میں تھے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود میں جمع کردیئے اور تمام خوبیاں اور کمالات جو متفرق کتابوں میں تھے وہ قرآن شریف میں جمع کردیئے۔اور ایسا ہی جس قدر کمالات تمام اُمتوں میں تھے وہ اس اُمت میں جمع کردیئے۔پس خدا تعالیٰ چاہتا