ملفوظات (جلد 1) — Page 309
خوب جانتا ہوں کہ ہماری جماعت نے وہ صدق اور وفا دکھایا ہے جو صحابہ ؓ ساعۃ العُسـر میں دکھاتے تھے اگرچہ اشتہار میں مَیں نے چند دوستوں کے نام لکھے ہیں جنھوں نے اپنے صدق و ہمت کا نمونہ دکھایا ہے لیکن اس سے یہ نہیں ظاہر ہوتا کہ میں دوسروں سے بے خبر ہوں یااُن کی خدمات کو قابلِ قدر نہیں سمجھتا۔مَیں خوب جانتا ہوں کہ کون سرگرمی اور اخلاص کے ساتھ میری راہ میں دوڑتا ہے۔میں چونکہ بیمار تھا اور ابھی تک طبیعت ناساز ہے اس لئے میں پوری تفصیل نہیں دے سکا اور نہ مختصر سے اشتہار میں اتنی تفصیل ہوسکتی تھی۔پس جن لوگوں کے نام درج نہیں ہوئے اُن کو افسوس نہیں کرنا چاہیے۔اللہ تعالیٰ اُن کے صدق اور اخلاص کو خُوب جانتا ہے۔مالی قربانی محض لِلّٰہ ہو اگر کوئی شخص اس غرض کے لئے چندہ دیتا ہے یا ہماری دینی ضروریات میں شریک ہوتا ہے کہ اُس کا نام شائع کیا جاوے تو یقیناً سمجھو کہ وہ دنیا کی شہرت اور نام و نمود کا خواہشمند ہے لیکن جو محض اللہ تعالیٰ کے لئے اس راہ میں قدم رکھتا ہے اور خدمتِ دین کے لئے کمربستہ ہوتا ہے اُس کو اس بات کی کچھ بھی پروا نہیں ہوتی۔دنیا کے نام کی کچھ حقیقت اور اثر اپنے اندر نہیں رکھتے ہیں۔نام وہی بہتر ہوتے ہیں جو آسمان پر لکھے جاویں۔کاغذات کا کیا اثر ہے۔ایک دن ہوتے ہیں اورایک وقت ضائع ہوجاتے ہیں لیکن جو کچھ آسمان پر لکھا جاتا ہے وہ کبھی محو نہیں ہوسکتا۔اس کااثر ابدالآباد کے لئے ہوتا ہے۔میرے بہت سے مخلص احباب ایسے ہیں جن کو تم میں سے شاید بہت کم جانتے ہوں لیکن انہوں نے ہمیشہ میرا ساتھ دیا ہے۔مثلاً مَیں نظیر کے طور پر کہتا ہوں کہ مرزا یوسف بیگ صاحب میرے بہت ہی مخلص اور صادق دوست ہیں۔مَیں نے اُن کا ذکر اس واسطے کیا ہے کہ اس طرح پر بھائیوں میں باہم تعارف بڑھتا ہے اور محبت پیدا ہوتی ہے۔مرزا صاحب اس وقت سے میرے ساتھ تعلق رکھتے ہیں جبکہ میں گوشہ نشینی کی زندگی بسر کررہا تھا۔مَیں دیکھتا ہوں کہ اُن کا دل محبت اور اخلاص سے بھرا ہوا ہے اور وہ ہر وقت سلسلہ کی خدمت کے لئے اپنے اندر ایک جوش رکھتے ہیں۔ایسا ہی اور بہت سے عزیز دوست ہیں اور سب اپنے اپنے ایمان اور معرفت کے موافق اخلاص اور جوشِ محبت سے لبریز ہیں۔